مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 507 of 632

مسیحی انفاس — Page 507

۵۰۷ صاف انکار کیا اور کسی گزشتہ معجزہ کا بھی حوالہ نہ دیا۔چنانچہ مرقس کی انجیل کے آٹھ باب اور باراں آیت میں بھی اس کی تصریح ہے اور عبارت مذکوریہ ہے۔تب فریسی نکلے اور اس سے (یعنی مسیح سے) حجت کر کے اس کے امتحان کے لئے آسمان سے کوئی نشان چاہا۔اس نے اپنے دل میں آہ کھینچ کر کہا اس زمانہ کے لوگ کیوں نشان چاہتے ہیں۔میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اس زمانہ کے لوگوں کو کوئی نشان دیا نہ جائے گا۔سو اگر چہ بظاہر دلالت عبارت اسی پر ہے کہ مسیح سے کوئی معجزہ صادر نہیں ہوا لیکن اصلی معنے اس کے یہی ہیں کہ اس وقت تک مسیح سے کوئی معجزہ ظہور میں نہیں آیا تھاتب ہی اس نے کسی گزشتہ متجزہ کا حوالہ نہیں دیا کیونکہ یہود میں صاحب صدق اور اخلاص تم تھے تاکسی کے حسن ارادت کے لحاظ سے کوئی معجزہ ظہور میں آتا۔لیکن اس کے بعد جب لوگ صاحب صدق اور ارادت پیدا ہو گئے اور طالب حق بن کر مسیح کے پاس آئے تو وہ معجزات دیکھنے سے محروم نہیں رہے چنانچہ یہودا اسکر یوطی کی خراب نیت پر مسیح کا مطلع ہو جاتا یہ اس کا ایک معجزہ ہی تھا جو اس نے اپنے شاگردوں اور صادق الاعتقاد لوگوں کو دکھلایا۔اگرچہ اس کے دوسرے سب عجیب کام باعث قصہ حوض اور بوجہ آیت مذکورہ بالا کے مخالف کی نظر میں قابل انکار اور محل اعتراض ٹھر گئے اور اب بطور حجت مستعمل نہیں ہو سکتے۔لیکن معجزہ مذکورہ بالا منصف مخالف کی نظر میں بھی ممکن ہے کہ ظہور میں آیا ہو۔غرض منجزات اور خوارق کے ظہور کے لئے طالب کا صدق اور اخلاص شرط ہے۔اور صدق اور اخلاص کے یہی آثار و علامات ہیں کہ کینہ اور مکابرہ درمیان نہ ہو۔اور صبر اور ثبات اور غربت اور تذکل سے بہ نیت ہدایت پانے کے کوئی نشان طلب کیا جائے اور پھر اس نشان کے ظہور تک صبر اور ادب سے انتظار کیا جائے تا خداوند کریم وہ بات ظاہر کرے جس سے طالب صادق یقین کامل کے مرتبہ تک پہنچ جائے۔براہین احمدیہ - روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۴۵۲،۴۵۱ بقیه حاشیه در حاشیہ نمبر ۳ ۳۵۵ یہودیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام سے کئی معجزات دیکھے مگر ان سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا اور انکار کرنے کے لئے ایک دوسرا پہلو لے لیا کہ ایک شخص کی بعض پیش گوئیاں سچ کے بھوت سے پوری نہیں ہوئیں جیسا کہ باراں تختوں کی پیش گوئی جو حواریوں کے لئے کی گئی تھی۔ان یہود نے قائم نہ اٹھایا نے فائدہ