مسیحی انفاس — Page 505
۵۰۵ قرآن شریف میں حضرت مسیح ابن مریم کے معجزات کا ذکر اس غرض سے مجربات زیادہ ہوئے ہیں بلکہ اس غرض سے ہے کہ یہودی اس کے معجزات سے قطعا منکر تھے اور قرآن شریف نے اس کو فریبی اور مکار کہتے تھے پس خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہودیوں کے دفع سود ہوں گے دفع اعتراض کے لئے مسیح ابن مریم کو صاحب معجزہ قرار دیا۔اعتراض کے لئے مسیح ابن مریم کو صاحب نیم دعوت صفحه ۱۶/۱۵ مور قرار دیا ۳۵۲ مجربات تین قسم کے ہوتے ہیں۔دعائیہ، ارہا صیہ اور قوت قدسیہ کے مجرات۔ارہا میہ میں دعا کو دخل نہیں ہوتا۔قوت قدسیہ کے مجربات ایسے ہوتے ہیں۔جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پانی میں انگلیاں رکھ دی تھیں اور لوگ پانی پیتے چلے جوتے تین قسم کے گئے۔یا کنویں میں لب گراد یا اور اس کا پانی میٹھا ہو گیا مسیح کے معجزات اس قسم کے بھی ہوتے ہیں تھے۔خود ہم کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۴ مورخه ۲۶ جولائی ۱۹۰۸ء صفحه ۳ ۱۳۵۳ پھر میں دعوت حق کی غرض سے دوبارہ اتمام حجت کرتا ہوں کہ یہ حقیقی نجات اور حقیقی نجات کے برکات اور ثمرات صرف انہیں لوگوں میں موجود ہیں جو حضرت محمد اللہ تعالی صرف نشان مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والے اور قرآن کریم کے احکام کے بچے تا بعدار دکھانے کا وعدہ دیتا ہیں اور میراد علوی قرآن کریم کے مطابق صرف اتنا ہے کہ اگر کوئی حضرت عیسائی صاحب ہے اس نجات حقیقی کے منگر ہوں جو قرآن کریم کے وسیلہ سے مل سکتی ہے تو انہیں اختیار ہے کہ وہ میرے مقابل پر نجلت حقیقی کی آسمانی نشانیاں اپنے مسیح سے مانگ کر پیش