مسیحی انفاس — Page 486
۴۸۲ تو جنگ بدر کی فتح۔دوسرے روم والی پیش گوئی کے پورا ہونے کی۔منتر جنتر بھی سلب امراض ہی ہے مگر بڑا خبیث کام ہے اس لئے اسلام میں اس کی بجائے خدا پر توقع کا حکم دیا گیا ہے۔اور صرف روحانی امراض کے لئے سلب رکھا گیا ہے جیسے قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّنها حضرت مسیح تو روحانی امراض کا سلب نہ کر سکے اس لیئے گالیاں دیتے چلے گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے سلب امراض کا نمونہ صحابہ ہیں۔ملفوظات۔جلد ۴ صفحہ ۱۱۱ کیا حضرت مسیح نے مردوں کو زندہ کیا ؟ بمراد ازالہ و ہم نور افشال ۱۳؍ اکتوبر ۱۸۹۲ء انجیل یوحنا ا ا باب ۲۔آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کا یہ قول لکھا ہے کہ قیامت اور زندگی میں ہی ہوں جو مجھ پر ایمان لاوے اگر چہ وہ مرگیا ہو تو بھی بنے گا۔یعنی گناہ اور نافرمانی اور غفلت اور کفر کی موت سے نجات پاگر اطاعت الہی کی روحانی زندگی حاصل کر لے گا۔انجیل کے اس فقرہ پر ایڈیٹر نور افشاں نے اپنے پرچہ ۱۳ اکتوبر ۱۸۹۲ء میں کم فہمی کی راہ سے لکھا ہے کہ آدم سے تا ایں دم کوئی شخص دنیا کی تواریخ میں ایسا نہیں ہوا جس نے ایسا بھاری دعوی کیا ہو اور اپنے حق میں ایسے الفاظ استعمال۔کئے ہوں کہ قیامت اور زندگی میں ہوں اور اگر کوئی ایسا کہتا تو اس کے مطابق ثابت کر دینا غیر ممکن ہوتا۔لیکن خداوند مسیح نے جیسا دعوی اپنے حق میں کیا ویسا ہی اس کو ثابت بھی کر دکھلایا۔فقط ایڈیٹر صاحب کا یہ مقولہ جس قدر راستی اور صداقت سے دور ہے کسی حقیقت شناس پر پر مخفی نہیں رہ سکتا۔واقعی امر یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح علیہ السّلام ایساد علوی کرتے کہ زندگی اور قیامت میں ہوں۔تو چونکہ وہ نیچے نبی تھے۔اس لئے ضرور تھا کہ اس دعوی کی سچائی ظاہر ہو جاتی۔اور حضرت مسیح کی زندگی میں اور بعد ان کے روحانی حیات دنیا میں بذریعہ ان کے پھیل جاتی۔لیکن جس قدر حضرت مسیح الہی صداقت اور ربانی تو حید کے پھیلانے سے ناکام رہے شاید اس کی نظیر کسی دوسرے نبی کے واقعات میں بہت ہی کم