مسیحی انفاس — Page 487
۴۸۷ ملے گی۔ہمارے اس زمانہ میں یہ شہادت بڑے بڑے پادری صاحبان بھی دے چکے ہیں۔کہ مسیح کی تعلیم خود ان کے شاگردوں کی پست خیالی اور کم فہمی اور دنیا طلبی کو دور کر سکی۔اور مسیح کی گرفتاری کے وقت جو کچھ انہوں نے بزدلی اور بد اعتقادی اور بے وفائی دکھلائی۔بلکہ بعض کی زبان پر بھی جو کچھ اس آخری وقت میں لعن طعن کے الفاظ حضرت مسیح کی نسبت جاری ہوئے یہ ایک ایسی بات ہے کہ بڑے بڑے اور اعلیٰ درجہ کے فاضل مسیحیوں نے حواریوں کی ان بیج حرکات کو مسیحیوں کے لئے سخت قابل شرم قرار دیا ہے۔پھر یہ خیال کرنا کہ حضرت مسیح روحانی قیامت تھے۔اور ان میں داخل ہو کر روحانی مردے زندہ ہو گئے کس قدر دور از صداقت ہے۔جو کچھ حضرت مسیح کے پیروؤں نے آپ کی زندگی کے وقت اپنی استقامت اور ایمانداری کا نمونہ دکھلا یادہ تو ایک ایسا بد نمونہ ہے کہ ضروران مسیحیوں پر جو بعد میں اب تک دنیا میں آتے گئے اس کا بد اثر پڑا ہو گا۔کیونکہ ہر یک شخص سمجھ سکتا ہے کہ اگر حضرت مسیح سے در حقیقت معجزات ظہور میں آتے اور اعلیٰ درجہ کے عجائب کام ان سے ظاہر ہوتے تو ان کے حواریوں کا جو ایمان لا چکے تھے ایسا بد انجام ہر گز نہ ہوتا کہ بعض چند درم رشوت لے کر ان کو گر فتار کراتے اور بعض ان کو گرفتار ہوتے دیکھ کر بھاگ جاتے۔اور بعض اُن کے روبروان پر لعنت بھیجتے۔جن کے دلوں میں ایمان رچ جاتا ہے اور جن کو نئی زندگی حاصل ہوئی ہے۔کیا ان کے یہی آثار ہوا کرتے ہیں۔اور کیا وہ اپنے مخدوم اپنے آقا اپنے رہبر سے ایسی ہی وفاداریاں کیا کرتے ہیں۔اور حضرت مسیح کے الفاظ بھی جو انجیلوں میں درج ہیں دلالت کر رہے ہیں کہ آپ کے حواری اور آپ کے دن رات کے دوست اور رفیق اور ہم پیالہ اور ہم نوالہ بجلی روحانیت سے خالی تھے۔اسی وجہ سے حضرت مسیح علیہ السلام نے بعض کو ان میں سے ست اعتقاد کے لفظ سے پکارا ہے۔اور بعض کو شیطان کے لفظ سے یاد کیا ہے۔اور اگر ہم حواریوں کو الگ رکھ کر ان عیسائیوں کے حالات پر نظر ڈالیں جوان بعد ان کے وقتاً فوقتاً آج تک پیدا ہوتے رہے تو ہمیں ایک بھی ان میں سے نظر ا نہیں آتا جو دنیا اور نفس کی قبر سے نکل کر نئی زندگی کی قیامت میں برانگیختہ ہو گیا ہو بلکہ وہ تمام نفسانیت کی تنگ و تاریک قبروں میں مرے ہوئے اور سڑے ہوئے نظر آرہے ہیں۔اور روحانی حیات کی ہوا ان کو چھو بھی نہیں گئی وہ جانتے بھی نہیں کہ خدا کون ہے۔اور اس کی عظمت اور قدرت کیا شے ہے اور کیونکر وہ پاک دلوں کو پاک زندگی