مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 485 of 632

مسیحی انفاس — Page 485

۴۸۵ ہوتی ہے۔توجہ کا سلسلہ کڑیوں کی طرح ہوتا ہے۔جو لوگ حکیم اور ڈاکٹر ہوتے ہیں۔ان کو اس فن میں مہارت پیدا کرنی چاہئے۔مسیح کی توجہ چونکہ زیادہ تر سلب امراض کی طرف تھی اس لئے سلب ذنوب میں وہ کامیابی نہ ہونے کی وجہ یہی تھی۔کہ جو جماعت انہوں نے طیار کی وہ اپنی صفائی نفس اور تزکیہ باطن میں ان مدارج کو پہنچ نہ سکی جو جلیل الشان صحابہ کو ملی۔اور یہاں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی باشر تھی کہ آج اس زمانہ میں بھی تیرہ سوبرس کے بعد سلب ذنوب کی وہی قوت اور تاثیر رکھتی ہے جو اس وقت میں رکھتی تھی۔مسیح اس میدان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر گز مقابلہ نہیں کر سکتے۔ملفوظات۔جلد ۳ صفحه ۳۶۸ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے زمانہ میں ایرانی لوگ مشرک تھے اور قیصر روم جو کہ عیسائی تھا دراصل موحد تھا اور مسیح کو ابن اللہ نہیں مانتا تھا۔اور جب اس کے سامنے مسیح کا وہ ذکر جو قرآن میں درج ہے پیش کیا گیا تو اس نے کہا میرے نزدیک مسیح کا آنحضرت کے ملب امراض کا نمونہ صحابہ درجہ اس سے ذرہ بھی زیادہ نہیں جو قرآن نے بتلایا ہے۔حدیث میں بھی اس کی گواہی ہیں بخاری میں موجود ہے۔کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ وہی کلام ہے جو توریت میں ہے۔اور اس کی حیثیت نبوت سے بڑھ کر انہیں ہے۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُم مِّنْ بَعْدِ علَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ فِي بِضْعِ سِنِينَ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِن قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَيَوْمَذِ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ یعنی روم اب مغلوب ہو گیا ہے مگر تھوڑے عرصہ میں (۹سال میں) پھر غالب ہو گا۔عیسائی لوگ نہایت شرارت سے کہتے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دونوں طاقتوں کا اندازہ کر لیا تھا اور پھر فراست سے یہ پیش گوئی کر دی تھی۔ہم کہتے ہیں که اسی طرح مسیح بھی بیماروں کو دیکھ کر اندازہ کر لیا کرتا تھا جو اچھے ہونے کے قابل نظر آتے تھے ان کا سلب امراض کر دیتا۔اس طرح تو سارے معجزات ان کے ہاتھ سے جاتے ہیں۔يَومَذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ اس دن مومنوں کو دو خوشیاں ہوں گی۔ایک