مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 484 of 632

مسیحی انفاس — Page 484

۴۸۴ سے موازنہ بیبر کی طرح دنیا میں آنا چاہئے تھا نہ کہ ساری عمر توریہ اختیار کر کے اور تمام باتیں کذب کے ہم رنگ کہہ کر یہ ثابت کر دیوے۔کہ وہ ان افراد کاملہ میں سے نہیں ہے جو مرنے سے لاپرواہ ہو کر دشمنوں کے مقابل پر اپنے تئیں ظاہر کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ پر پورا بھروسہ رکھتے ہیں۔اور کسی مقام میں بزدلی نہیں دکھلاتے۔مجھے توان باتوں کو یاد کرتے رونا آتا ہے کہ اگر کوئی ایسے ضعیف القلب یسوع کی اس ضعف حالت اور توریہ پر جو ایک قسم کا کذب ہے اعتراض کرے تو ہم کیا جواب دیں۔جب میں دیکھتا ہوں کہ جناب سید المرسلین جنگ اللہ میں اکیلے ہونے کی حالت میں برہنہ تلواروں کے سامنے کہہ رہے تھے۔میں محمد ہوں۔میں نبی اللہ ہوں۔میں ابن عبد المطلب ہوں۔اور پھر دوسری طرف دیکھتا ہوں کہ آپ کا یسوع کانپ کانپ کر اپنے شاگردوں کو یہ خلاف واقعہ تعلیم دیتا ہے کہ کسی سے نہ کہنا کہ میں یسوع میں ہوں۔حالانکہ اس کلمہ سے مسیح سے کوئی اس کو قتل نہیں کرتا تو میں دریائے حسرت میں غرق ہو جاتا ہوں کہ یا الہی یہ شخص بھی نبی ہی کہلاتا ہے۔جس کی شجاعت کا خدا کی راہ میں یہ حال ہے۔نور القرآن۔حصہ دوم۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۰۶، ۴۰۷ علاج کی چار صورتیں تو عام ہیں۔دوا سے۔غذا سے۔عمل ہے۔پرہیز سے علاج کیا جاتا ہے۔ایک پانچویں قسم بھی ہے جس سے سلب امراض ہوتا ہے وہ توجہ سلب امراض کے لحاظ ہے۔حضرت مسیح علیہ السّلام اسی توجہ سے سلب امراض کیا کرتے تھے۔اور یہ سلب امراض کی قوت مومن اور کافر کا امتیاز نہیں رکھتی۔بلکہ اس کے لئے نیک چلن ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔نبی اور عام لوگوں کی توجہ میں اتنا فرق ہوتا ہے کہ نبی کی توجہ کسی نہیں ہوتی۔وہی ہوتی ہے۔آج کل ڈوئی جو بڑے دعوے کرتا ہے۔یہ بھی وہی سلب امراض ہے۔توجہ ایک ایسی چیز ہے کہ اس سے سلب ذنوب بھی ہو جاتا ہے۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ اور مسیح علیہ السلام کی توجہ میں یہ فرق ہے کہ مسیح کی توجہ سے سلب امراض ہو تا تھا۔مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ سے سلب ذنوب ہو تا تھا۔اور اس وجہ سے آپ کی قوت قدسی کمال کے درجہ پر پہنچی ہوئی تھی۔دعا بھی توجہ ہی کی ایک قسم ہ سہو ہے یہ واقعہ غزوہ حنین کا ہے۔مرتب