مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 392 of 632

مسیحی انفاس — Page 392

عیسائیت کے مذہب کو دیکھو کہ وہ ابتداء میں کے صول پر مبنی تھا۔اور جس م کو حضرت مسیح علیہ السّلام نے پیش کیا تھا اگرچہ وہ تعلیم قرآنی تعلیم کے مقابل پر ناقص تھی کیونکہ ابھی کامل تعلیم کا وقت نہیں آیا تھا اور کمزور استعداد میں اس لائق بھی نہیں تھیں تاہم وہ تعلیم اپنے وقت کے مناسب حال نہایت عمدہ تعلیم تھی۔وہ اسی خدا کی یسائیت کی تعلیم جو طرف رہنمائی کرتی تھی جس کی طرف توربیت نے رہنمائی کی۔لیکن حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد مسیحیوں کا خدا ایک اور خدا ہو گیا جس کا توریت کی تعلیم میں کچھ بھی ذکر نہیں۔اور نہ بنی اسرائیل کو اس کی کچھ خبر بھی ہے۔اس نئے خدا پر ایمان لانے سے تمام سلسلہ توریت کا الٹ گیا۔اور گناہوں سے حقیقی نجات اور پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے جو ہدایتیں توریت میں تھیں وہ سب درہم برہم ہو گئیں۔اور تمام مدار گناہ سے پاک ہونے کا اس اقرار پر آگیا کہ حضرت مسیح نے دنیا کو نجات دینے کے لئے خود صلیب قبول کی اور وہ خدارہی تھے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ توریت کے اور کئی ابدی احکام توڑ دیئے گئے اور عیسائی مذہب میں ایک ایسی تبدیلی واقع ہوئی کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام خود بھی دوبارہ تشریف لے آویں تو وہ اس مذہب کو شناخت نہ کر سکیں۔نہایت حیرت کا مقام ہے کہ جن لوگوں کو تورات کی پابندی کی سخت تاکید تھی انہوں نے یک لخت تورات کے احکام کو چھوڑ دیا۔مثلاً انجیل میں کہیں حکم نہیں کہ تورات میں تو سور حرام ہے اور میں تم پر حلال کرتا ہوں۔اور توریت میں تو ختنہ کی تاکید ہے اور میں ختنہ کا حکم منسوخ کرتا ہوں۔پھر کب جائز تھا کہ جو باتیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے منہ سے نکلیں وہ مذہب کے اندر داخل کر دی جائیں۔لیکن چونکہ ضرور تھا کہ ایک عالمگیر مذہب یعنی اسلام دنیا میں قائم کرے اس لئے عیسائیت کا بگڑنا اسلام کے ظہور کے لئے بطور ایک علامت کے تھا۔- لیکچر سیالکوٹ۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۰۴، ۲۰۵ ماسب اور منجملہ قرآن کی ضرورتوں کے ایک یہ امر بھی تھا کہ جو اختلاف حضرت مسیح کی نسبت یہود اور نصاری میں واقع تھا اس کو دور کرے۔سو قرآن شریف نے ان سے قرآن کریم نے بورد جھگڑوں کا فیصلہ کیا۔جیسا کہ قرآن شریف کی یہ آیت يَا عِيسَى إِلَى مُتَوَفِّيكَ نصاری کے اختلاف کو دور کیا۔وَرَافِعُكَ إِلَى اُسی جھگڑے کے فیصلہ کے لئے ہے۔کیونکہ یہودی لوگ یہ خیال یہود