مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 391 of 632

مسیحی انفاس — Page 391

۳۹۱ 744 توریت اور انجیل خاص ماسوا اس کے قرآن شریف کے وجود کی ضرورت پر ایک اور بڑی دلیل یہ ہے کہ پہلی تمام کتابیں موسیٰ کی کتاب توریت سے انجیل تک ایک خاص قوم یعنی بنی اسرائیل کو اپنا مخاطب ٹھہراتی ہیں۔اور صاف اور صریح لفظوں میں کہتے ہیں کہ ان کی ہدایتیں عام فائدہ کے لئے نہیں بلکہ صرف بنی اسرائیل کے وجود تک محدود ہیں۔مگر قرآن شریف کا مد نظر تمام دنیا کی اصلاح ہے۔اور اس کی مخاطب کوئی خاص قوم نہیں بلکہ کھلے گھلے طور پر بیان قوم تک محدود ہیں میں فرماتا ہے کہ وہ تمام انسانوں کے لئے نازل ہوا ہے اور ہر ایک کی اصلاح اس کا مقصود ہے۔سو بلحاظ مخاطبین کے توریت کی تعلیم اور قرآن کی تعلیم میں بڑا فرق مثلاً توریت کہتی ہے کہ خون مت کر اور قرآن بھی کہتا ہے کہ خون مت کر اور بظاہر قرآن میں اسی حکم کا اعادہ معلوم ہوتا ہے جو توریت میں آچکا ہے۔مگر در اصل اعادہ نہیں بلکہ توریت کا یہ حکم صرف بنی اسرائیل سے تعلق رکھتا ہے اور صرف بنی اسرائیل کو خون سے منع فرماتا ہے دوسرے سے توریت کو کچھ غرض نہیں۔لیکن قرآن شریف کا یہ حکم تمام دنیا سے تعلق رکھتا ہے۔اور تمام نوع انسان کو ناحق کی خون ریزی سے منع فرماتا ہے۔اسی طرح تمام احکام میں قرآن شریف کی اصل غرض عامہ خلائق کی اصلاح ہے اور توریت کی غرض صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے۔كتاب البرتية - روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۸۵ قرآن وہ کتاب ہے جس کے مقابل پر تمام ہدایتیں بیچ ہیں۔انجیل کالانے والا وہ روح القدس تھا جو کبوتر کی شکل پر ظاہر ہوا جو ایک ضعیف اور کمزور جانور ہے جس کو بلی بھی پکڑ سکتی ہے۔اسی لئے عیسائی دن بدن کمزوری کے گڑھے میں پڑتے گئے اور انجیل کالانے والا روح القدس کبوتر کی شکل روحانیت ان میں باقی نہ رہی۔کیونکہ تمام ان کے ایمان کا مدار کبوتر پر تھا۔مگر قرآن کا میں ان بارہ سوات میں ہوا۔روح القدس اس عظیم الشان شکل میں ظاہر ہوا تھا جس نے زمین سے لے کر آسمان تک اپنے وجود سے تمام ارض و سماء کو بھر دیا تھا۔پس کجاوہ کبوتر اور کجا یہ تجلی عظیم جس کا قرآن شریف میں بھی ذکر ہے۔قرآن ایک ہفتہ میں انسان کو پاک کر سکتا ہے اگر صوری یا معنوی اعراض نہ ہو۔کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۷