مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 357 of 632

مسیحی انفاس — Page 357

۳۵۷ ٢٢٠ یہ کہ بدھ لوگوں میں وہی قصہ شیطان کا مشہور ہے جو اس کو آزمانے کے لئے کئی جگہ لئے پھرا۔پس ہر ایک کو یہ خیال دل میں لانے کا حق ہے کہ تھوڑے سے تغیر سے وہی قصہ انجیل میں بھی بطور سرقہ داخل کر دیا گیا ہے۔یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ ضرور حضرت عیسی علیہ السلام ہندوستان میں آئے تھے اور حضرت عیسیٰ کی قبر سری نگر کشمیر میں موجود ہے جس کو ہم نے دلائل سے ثابت کیا ہے۔اس صورت میں ایسے معترضین کو اور بھی حق پیدا ہوتا ہے وہ ایسا خیال کریں کہ اناجیل موجودہ در اصل بدھ مذہب کا ایک خاکہ ہے۔یہ شہادتیں اس قدر گذر چکی ہیں کہ اب مخفی نہیں ہو سکتیں۔ایک اور امر تعجب انگیز ہے کہ یوز آسف کی قدیم کتاب (جس کی نسبت اکثر محقق انگریزوں کے بھی یہ خیالات ہیں کہ وہ حضرت عیسی کی پیدائش سے بھی پہلے شائع ہو چکی ہے ) جس کے ترجمے تمام ممالک یورپ میں ہو چکے ہیں انجیل کو اس کے اکثر مقامات سے ایسا توار د ہے کہ بہت سی عبارتیں باہم ملتی ہیں اور جو انجیلوں میں بعض مثالیں موجود ہیں وہی مثالیں انہیں الفاظ کے ساتھ اس کتاب میں بھی موجود ہیں۔اگر ایک شخص ایسا جاہل ہو کہ گویا اندھا ہو وہ بھی اس کتاب کو دیکھ کر یقین کرے گا کہ انجیل اس میں سے چرائی گئی بعض لوگوں کی یہ رائے ہے کہ یہ کتاب گو تم بدھ کی ہے۔اور اول سنسکرت میں تھی اور پھر دوسری زبانوں میں ترجمے ہوئے۔چنانچہ بعض محقق انگریز بھی اس بات کے قائل ہیں۔مگر اس بات کے ماننے سے انجیل کا کچھ باقی نہیں رہتا۔اور نعوذ باللہ حضرت سٹی اپنی تمام تعلیم میں چور ثابت ہوتے ہیں۔کتاب موجود ہے جو چاہے دیکھ لے۔مگر ہماری رائے تو یہ ہے کہ خود حضرت عیسی کی یہ انجیل ہے جو ہندوستان کے سفر میں بھی گئی اور ہم نے بہت سے دلائل سے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ یہ در حقیقت حضرت عیسی کی انجیل ہے اور دوسری انجیلوں سے زیادہ پاک وصاف ہے۔مگر وہ بعض محقق انگریز جو اس کتاب کو بدھ کی کتاب ٹھہراتے ہیں وہ اپنے پاؤں پر آپ تبر مارتے ہیں اور حضرت عیسی علیہ السلام کو سارق قرار دیتے ہیں۔ہے۔چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۳۹ ۳۲۰ تعجب ہے کہ جس حالت میں قرآن شریف ایسے جزیرہ میں نازل ہوا جس کے لوگ عموماً عیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں سے بے خبر تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ