مسیحی انفاس — Page 358
۳۵۸ وسلم خود اُئی تھے تو پھر یہ تہمتیں آنجناب پر لگانا ان لوگوں کا کام ہے جو خدا سے بالکل بے خوف ہیں اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ اعتراض ہو سکتے ہیں تو پھر حضرت حضرت مسیح تقویت عیسی پر کس قدر اعتراض ہوں گے جنہوں نے ایک اسرائیلی فاضل سے توریت کو سبقاً بنا سبعا پڑھا کرتے سبھا پڑھا تھا اور یہودیوں کی تمام کتابوں طالمود وغیرہ کا مطالعہ کیا تھا اور جن کی انجیل در حقیقت بائبل اور ظالموں کی عبارتوں سے ایسی پر ہے کہ ہم لوگ محض قرآن شریف کے ارشاد کی وجہ سے ان پر ایمان لاتے ہیں ورنہ اناجیل کی نسبت بڑے شبہات پیدا ہوتے ہیں۔اور افسوس کہ انجیلوں میں ایک بات بھی ایسی نہیں کہ جو بلفظہ پہلی کتابوں میں موجود نہیں۔اور پھر اگر قرآن نے بائیل کی متفرق سچائیوں اور صداقتوں کو ایک جگہ جمع کر دیا تو اس میں کونسا استبعاد عقلی ہوا۔اور کیا غضب آگیا۔کیا آپ کے نزدیک یہ محال ہے کہ یہ تمام قصے قرآن شریف کے بذریعہ وحی کے لئے گئے ہیں جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صاحب وحی ہونا دلائل قاطعہ سے ثابت ہے۔اور آپ کی نبوت حقہ کے انوار و بركات اب تک ظہور میں آرہے ہیں تو کیوں شیطانی وساوس دل میں داخل کئے جاویں کہ نعوذ باللہ قرآن شریف کا کوئی قصہ کسی پہلی کتاب یا کتبہ سے نقل کیا گیا ہے۔کیا آپ کو خدا تعالیٰ کے وجود میں کوئی شک ہے یا آپ اس کو علم غیب پر قادر نہیں جانتے۔اور میں بیان کر چکا ہوں کہ عیسائیوں اور یہودیوں کا کسی کتاب کا اصلی قرار دینا اور کسی کو فرضی سمجھنا یہ سب بے بنیاد خیالات ہیں۔نہ کسی نے اصلی کی اصلیت کا ملاحظہ کیا اور نہ کسی نے کسی جعلساز کو پکڑا۔اس کی نسبت خود یورپ کے محققین کی شہادتیں ہمارے پاس موجود ہیں۔ایک اندھی قوم ہے جن میں ایمانی روشنی باقی نہیں رہی۔اور عیسائیوں پر تو نہایت ہی افسوس ہے جنہوں نے طبعی اور فلسفہ پڑھ کر ڈبو دیا ایک طرف تو آسمانوں کے منکر ہیں اور ایک طرف حضرت عیسی کو آسمان پر بٹھاتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ اگر یہود کی پہلی کتابیں سجتی ہیں تو ان کی بناء پر حضرت عیسی کی نبوت ہی ثابت نہیں ہوتی۔مثلاً بچے مسیح موعود کے لئے جس کا حضرت عیسی کو دعوی ہے ملاکی نبی کی کتاب کی رو سے یہ ضروری تھا کہ اس سے پہلے الیاس نبی دوبارہ دنیا میں آتا۔مگر یہ قرآن شریف کا الیاس تو اب تک نہ آیا۔در حقیقت یہودیوں کی طرف سے یہ بڑی حجت ہے جس کا حضرت مسیح پر احسان جواب حضرت عیسی صفائی سے نہیں دے سکے۔یہ قرآن شریف کا حضرت عیسی پر ہے جو ان کی ثبوت کا احسان ہے جو ان کی نبوت کا اعلان فرمایا۔اعلان فرمایا۔