مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 356 of 632

مسیحی انفاس — Page 356

۳۵۶ اگر آپ کی ذات شریف میں ایسا ہنر حاصل ہے کہ جو حضرت مسیح کو بھی حاصل نہیں تھا۔تو پھر یہ جو ہر کس دن کے لئے چھپارکھا ہے۔جب آپ ایسے ہی لائق ہیں کہ قرآن شریف کا مقابلہ کر سکتے ہیں بلکہ اس کا ماخذ بتلا سکتے ہیں۔تو پھر آپ کے لئے بات ہی آپ کسی سے بہ آسان ہے۔صحیح قرآن شریف کے علوم الہیہ اور دقائق عقلیہ اور تاثیرات باطنیہ ٹھہر جائیں گے۔کا اپنی کتاب سے مقابلہ دکھلا کر روپیہ انعام کا وصول کریں۔اس سے آپ کی بڑی ناموری ہو جاوے گی۔اور جس میدان کے فتح کرنے سے حضرت میں ہے اور اپنی تعلیم ناقص کا آپ اقرار کر کے اس جہان سے سدھار گئے۔وہ میدان گویا آپ کے ہاتھ سے فتح ہو جائے گا۔گویا ایک صورت سے آپ عیسائیوں کی نظر میں مسیح سے بہتر ٹھہر جاویں گے۔کہ جس کتاب و وہ مدت العمر ناقص مجھے رہے آپ نے اس کامل ظاہر کر دکھایا۔براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۳۲۹ تا ۳۳۷ بقیه حاشیه در حاشیہ نمبر ۲ صاحب بینابیع الاسلام نے اگر یہ کوشش کی ہے کہ قرآن شریف فلاں فلاں قصوں یا کتابوں سے بنایا گیا ہے۔یہ کوشش اس کی اس کوشش کے ہزارم حصہ پر بھی نہیں جو ایک فاضل یہودی نے انجیل کی اصلیت دریافت کرنے کے لیئے کی ہے۔اس فاضل نے اپنے خیال میں اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ انجیل کی اخلاقی تعلیم یہودیوں کی کتاب انا جیل کی تعلیم سرقہ طالمود اور بعض اور چند بنی اسرائیل کی کتابوں سے لی گئی ہے۔اور یہ چوری اس قدر صریح طور پر عمل میں آئی ہے کہ عبادتوں کی عبارتیں بعینہ نقل کر دی گئی ہیں۔اور اس فاضل نے دکھلا دیا ہے کہ در حقیقت انجیل مجموعہ مال مسروقہ ہے۔در حقیقت اس نے حد کر دی اور خاص کر پہاڑی تعلیم کو جس پر عیسائیوں کو بہت کچھ ناز ہے طالمود سے اخذ کر نالفظ بلفظ ثابت کر دیا ہے اور دکھلا دیا ہے کہ یہ ظالموں کی عبارتیں اور فقرے ہیں۔اور ایسا ہی دوسری کتابوں سے وہ مسروقہ عبارتیں نقل کر کے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔چنانچہ خود یورپ کے محقق بھی اس طرف دلچپسی سے متوجہ ہو گئے ہیں۔اور ان ونوں میں میں نے ایک ہندو کار سیالہ دیکھا ہے جس نے یہ کوشش کی ہے کہ انجیل بدھ کی تعلیم کا سرقہ ہے اور بدھ کی اخلاقی تعلیم کو پیش کر کے اسکا ثبوت دینا چاہا ہے۔اور عجیب تر