مسیحی انفاس — Page 336
العنوان کشمیر کے لفظ کے بیان میں یہ عبارت ہے :۔یہاں کے باشندے دراز قد - قوی ہیکل۔مردانہ شباہت والے عورتیں مکمل اندام والیں۔خوبصورت بلند خمدار بینی والے شکل و وضع میں بالکل یہودیوں کے مشابہ ہیں۔اور سول اینڈ ملٹری گزٹ (مطبوعہ ۲۳ نومبر شمار صفحه (۴) میں مضمون سواتی اور آفریدی (اقوام لکھا ہو کہ ہمیں ایک اعلی درجہ کا قیمتی اور دلچسپ مضمون ملا ہے جو برٹش ایسوسی ایشن کے ایک حال کے جلسہ میں ایسوسی ایشن مذکورہ کی شارخ متعلقه تاریخ طبیعی نوع انسان میں پیش کیا گیا ہے اور جو کمیٹی تحقیقات تاریخ طبیعی انسان کے موسم سرما کے جلسہ میں بھی سنایا جاتا ہے۔ہم وہ مکمل مضمون ذیل میں درج کرتے ہیں۔ہندوستان کی مغربی سرحد کے پٹھان یا پیشان باشندوں کا حال قدیمی تاریخوں میں موجود ہے اور بہت سے فرقوں کا ذکر ہیروڈوٹس نے اور سکندر اعظم کے تاریخ نویسوں نے کیا ہے۔وسطی زمانہ میں اس پہاڑ کا غیر آباد اور ویرانہ کا نام روزہ تھا۔اور اس علاقہ کے باشندوں کا نام رہیکہ تھا۔اور اس میں شک نہیں کہ یہ رہی کے یا پٹھان قوم افغانان کے نام و نشان سے پہلے ان علاقوں میں آباد تھے۔اب سارے افغان پٹھانوں میں شمار کئے جاتے ہیں کیونکہ وہ پٹھانی زبان یعنے پشتو بولتے ہیں۔لیکن وہ ان سے کسی رشتہ کا اقرار نہیں کرتے۔اور اُن کا دعوی ہے کہ ہم بنی اسرائیل ہیں لینے ان فرقوں کی اولاد ہیں جن کو بخت نصر قید کر کے بابل لے گیا تھا۔مگر سب نے پشتو زبان کو اختیار کر لیا ہے۔اور سب اسی مجموعہ قوانین ملی کو مانتے ہیں جس کا نام پکستان عالی ہے اور جس کے بہت سے قواعد پرانی موسوی شریعت سے عجیب طور پر مشابہت رکھتے ہیں۔اور بعض اقوام را چوت کے پرانے رسم و رواج سے بھی ملتے جلتے ہیں۔اگر ہم اسرائیلی آثار کو زیر نظر رکھ کر دیکھیں تو ظاہر ہوگا کہ پٹھانوں کی قومیں دو بڑے حصوں میں منقسم ہو سکتی ہیں۔۔۔بینے اول وہ فرقے ہندی الاصل ہیں جیسے وزیری - آفریدی۔اورک زئی وغیرہ۔دوسرے افغان جو سامی (Termitie)