مسیحی انفاس — Page 337
۳۳۷ ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور سرحد پہ زیادہ آبادی انہی کی ہے۔اور کم سے کم یہ ممکن ہے کہ پکستان والی جو ایک غیر مکتوب ضابطہ قواعد ملی ہے۔سب کا ملکر تیار ہوا ہے۔اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ موسوی احکام را چوتی رسوم سے ملے ہوئے ہیں جن کی ترمیم اسلامی رسوم نے کی ہے۔وہ افغان جو اپنے تئیں درانی کہلاتے ہیں اور جب سے کہ دورانی سلطنت کی بنیاد پڑی ہے یعنے ۱۵۰ سال سے اپنے تئیں درانی ہی نامزد کرتے آئے ہیں۔کہتے ہیں کہ وہ اصلا اسرائیلی فرقوں کی اولاد سے ہیں اور ان کی نسل کش (قیس) سے جاری ہوتی ہے جسکو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پٹھان کے نام سے موسوم کیا۔جس کے معنے سریانی زبان میں مکان کے ہیں کیونکہ اس نے لوگوں کو اسلام کی لہروں میں کشتی کی طرح پھلا نا تھا۔اگر ہم قوم افغان کا قوم اسرائیل سے کوئی قدیمی رشتہ نہ مانیں تو ان اسرائیلی ناموں کی کوئی وجہ بیان کرنا ہمارے لئے مشکل ہو جاتا ہے جو عام طور پر رائج ہیں۔اور بعض روم مثلا عید صبح کے تہوار کے رائج ہونے کی وجہ بیان کرنا اور کبھی ہمارے لئے دشوار ہو جاتا ہے۔اور قوم افغان کی یوسف زئی شاخ اگر مید فصیح کی حقیقت کو سمجھ کر نہیں مناتے تو کم سے کم ان کا تہوار عید فصیح کی نہایت عجیب اور عمدہ نقل ہے۔ایسا ہی اسرائیلی رشتہ نہ ماننے کی حالت میں ہم اُس اصرار کی بھی کوئی وجہ نہیں بتلا سکتے۔جواعلیٰ تعلیم یافتہ افغانوں کو اس روایت کے بیان کرنے اور اس پر قائم رہنے میں ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت کی صداقت کی کوئی اصل بنیاد ضرور ہوگی۔بلیور Belle ) کی رائے ہے کہ اسرائیلی رشتہ کا در حقیقت سچاہ ہونا ممکن ہے مگروہ بیان کرتا ہے کہ افغانوں کی تین بڑی شانوں میں سے جو اپنے تئیں قیس کی اولاد بیان کرتے ہیں کم سے کم ایک شاخ سارا بور کے نام سے موسوم ہے اور یہ لفظ پشتو زبان میں اس نام کا ترجمہ ہے جو پرانے زمانے میں سورج بنسی راجپوتوں کا نام تھا جن کی نسبت یہ معلوم ہے کہ انکی بستیاں مہا بھارت کی لڑائی میں چندر بنسی خاندان سے شکست کھا کر افغانستان میں آبسی تھیں۔اس طرح