مسیحی انفاس — Page 335
۳۳۵ اور صفحہ 42 میں لکھا ہے تقریباً تمام مشرقی مورخوں کی یہی تحقیقات ہے کہ افغان قوم کا اپنا یہی اعتقاد ہے کہ وہ یہودی الاصل ہیں اور اس رائے کو زمانہ حال کے بعض مورخوں نے بھی اختیار کیا ہے یا غالباً صحیح سمجھا ہے۔۔۔۔۔۔۔اور یہ رواج کی افغان یہودیوں کے نام اپنے نام رکھتے ہیں بیشک افغانوں کے مسلمان ہو جانے کی وجہ سے ہے لیکن مترجم بر نہار دوران کا یہ خیال کوئی ثبوت نہیں رکھتا۔پنجاب کے شمال مغربی حصہ میں اکثر ایسی قومیں ہندی الاصل آباد ہیں جو آباد ہوگئی ہیں لیکن اُن کے نام یہودی اموں کی طرز پر ہرگز نہیں۔جس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان ہو جائے سے ایک قوم میں یہودی نام داخل نہیں ہو جاتے " افغان کے خط و خال میہودیوں سے حیرت انگیز طور پر مشابہت رکھتے ہیں اور اس بات کو ان محققوں نے بھی تسلیم کرلیا ہے جو افغانوں کے دعوے یہودی الاصل ہونے پر کچھ التفات نہیں کرتے۔اور یہی ایک ثبوت ہے جو اُن کے یہودی الاصل ہونے کے بارے میں مل سکتا ہے۔سر جان ملکم کے الفاظ اس بارے میں یہ ہیں : اگر چہ افغانوں کا یہودیوں کی معزز نسل سے ہونے ہیں۔اگرچہ کا کا دعوی بہت مشتبہ ہے۔لیکن انکی شکل و ظاہری خط و خال اور انکے اکثر رسوم سے یہ امر صاف ظاہر ہے کہ وہ (افغان) فارسیلوں۔تاتاریوں اور مہندیوں سے ایک جدا قوم ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ صرف یہی بات اس بیان کو معتبر ٹھہراتی ہے جس کی مخالفت بہت سے قوی واقعات کرتے ہیں اور جس کا کوئی مصاف ثبوت نہیں ملتا۔اگر ایک قوم کی دوسری قوم کے ساتھ شکل و وضع میں مشابہت رکھنے سے کوئی نتیجہ نکل سکتا ہے تو کشمیری اپنے یہودیوں والے خط و خال کی وجہ سے یقینا یقینا یہود الاصل ثابت ہونگے اور اس بات کا صرف یہ نیر نے ہی نہیں بلکہ فارسٹر اور شاید دیگر محققوں نے ذکر کیا ہے یہ ارچه فاستر برتری کی ان کو تسلیم نہیں کرتا تاہم وہ اقرار کرتا ہے کہ جب کشمیریوں میں تھا تو اس نے خیال کیا کہ وہ ایک یہودیوں کی قوم کے درمیان رہتا ہے۔اور کتاب ڈکشنری آف جیوگرافی مرتبہ اسے کے جانسٹن کے صفحہ۔وه