مسیحی انفاس — Page 334
اور اسی کتاب مخزن افغانی کے صفحہ ۶۳ میں لکھتا ہے کہ بنی افغنہ یا بنی افغان ناموں کی نسبت فرید الدین احمد اپنی کتاب رسالہ انساب افغانیہ میں مفضلہ ذیل عبارت لکھتا ہے " بخت نصر مجوسی جب بنی اسرائیل اور شام کے علاقوں پر مستولی ہوا اور یروشلم کو تباہ کیا توبنی اسرائیل کو قیدی اور غلام بنا کر جلا وطن کردیا اور اس قوم کے کئی قبیلے جو موسوی شریعت کے پابند تھے اپنے ساتھ لے گیا اور حکم دیا کہ وہ آبائی مذہب چھوڑ کر خدا کی بجائے اُس کی پرستش کر یں۔لیکن اُنھوں نے انکار کیا۔بنابریں بخت نر نے نہایت عاقل اور فہیم لوگوں میں سے دو ہزار کو مارڈالا اور باقیوں کے لئے حکم دیا کہ اس کے مقبوضات اور شام سے کہیں باہر پہلے جائیں۔اُن کا ایک حصہ ایک سردار کے ماتحت بخت نصر کے مقبوضات سے نکل کر کوہستان غور میں چلا گیا اور یہاں ان کی اولادورہ پڑی۔ولی بدن ان کی تعداد بڑھتی گئی اور لوگوں نے ان کو بنی اسرائیل - بنی آصف اور بنی افغان کے ناموں سے موسوم کیا۔صفحہ ۶۲ میں مصنف مذکور کا قول ہے کہ معتبر کتب مثلاً تاریخ افغانی - تاریخ نخوری و غیره میں یہ دعوئی درج ہے۔افغان بہت زیادہ حصہ تو بنی اسرائیل ہیں اور کچھ حصہ قبطی یہ نیز ابو الفضل کا بیان ہے کہ بعض افغان اپنے آپ کو مصری الاصل سمجھتے ہیں۔اور یہ وجہ پیش کرتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل یروشلم سے مصر واپس گئے۔اس فرقہ یعنے الفنان نے ہندوستان کو نقل مقام کیا۔اور صفحہ ہے میں فرید الدین احمد افغان کے نام کی بابت یہ لکھتا ہے :۔افغان نام کی نسبات بعض نے یہ لکھا ہے کہ (شام سے جلا وطنی کے بعد جب وہ ہر وقت اپنے وطن مالوف کا دل میں خیال لاتے تھے تو آہ و فغان کرتے تھے۔لہذا ان کا نام افغان ہوا اور یہی رائے کنترجان حکم کی ہے دیکھو ہسٹری آفت پرشیا جلد اصفحہ ۱۰۱ - اور صفحہ ۶۳ میں مہابت خان کا بیان ہے کہ چول ایشان از توابع و لواحق سلیمان علیہ السلام اندر بنا برای ایشان را مردم عرب سلیمانی گوینده