مسیحی انفاس — Page 333
باب اول میں بیان تاریخ یعقوب اسرائیل ہے جس سے اس (افغان) قوم کا شجرہ نسب شروع ہوتا ہے۔باب دوم میں مضمون تاریخ شاہ طالوت ہے۔یعنے افغانوں کا شجرہ نسب طالوت سے ملایا گیا ہے۔صفحہ ۲۲ و ۲۳ میں لکھا ہے کہ طالوت کے دو بیٹے تھے۔پرینیا اور ارمیاہ۔برخیا کا بیٹا آصف تھا اور ارمیاہ کا افغان۔اور صفحہ ۲۴ میں لکھا ہے کہ افغان کے ۲ بیٹے تھے اور افغان کی اولاد کے برابر کوئی اور اسرائیلی قبیلہ میں نہ تھا۔اور صفحہ ۶۵ میں لکھا ہے کہ بخت نصر نے تمام شام پر قبضہ کر لیا اور اقوام بنی اسرائیل کو جلا وطن کر کے غور غزنی - کابل - قندہار اور کوہ فیروز کے کوہستانی علاقوں میں لابسا یا جہاں خاصکر آصف اور افغان کی اولاد رو پڑی۔باب سوم میں یہ بیان ہے کہ بخت نصر نے جب بنی اسرائیل کو شام سے نکال دیا تو آصف اور افغان کی نسل کے چند قبائل عرب میں جاگزین ہوئے۔اور عرب ان کو بنی اسرائیل اور بنی افغان کے ناموں سے نامزد کرتے تھے۔اور اس کتاب کے صفحہ ۳۷ و ۳۸ - مصنف مجمع الانساب اور مستوفی مصنف تاریخ گزیدہ کے حوالہ سے تفصیلاً بیان کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حین حیات میں خالد بن ولید نے ان افغانوں کی طرف دعوت اسلام کا پیغام بھیجا۔جو بخت نصر کے واقعہ کے بعد غور کے علاقہ ہی میں رو پڑے تھے۔افغان سردار بسر برا ہی قیس جو ۳۷ پشتوں کے بعد طالوت کی اولاد تھا حاضر خدمت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے۔قیس کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد الرشید رکھا۔اس جگہ عبد الرشید تھیں کا شجرہ نسب طالوت (سال) تک دیا ہے)۔نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سرداروں کا نام پٹھان رکھا جسکے معنے سکان جہاز کے ہیں کچھ عرصہ کے بعد سردار واپس اپنے ملک میں آئے اور اسلام کی تبلیغ کی۔☐