مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 274 of 632

مسیحی انفاس — Page 274

ہرگز نفی کا جواب نہیں دینگے پس یقینا سمجھو کہ دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں کہ اسقدر انکشان کے بعد پھر بھی اپنے کفر اور انکار پر اڑا رہے۔افسوس ہو کہ ایسی کہانیوں کی بندش میں ہمارے مالک کے سکھ خالصہ عیسائیوں سے اچھے رہے اور انہوں نے ایسی کہانیوں کے بنانے میں خوب ہوشیاری کی۔کیونکہ وہ بیان کرتے ہیں کہ اُنکے گور و باور نانک نے ایک دفعہ ایک ہاتھی مردہ زند کیا تھا اب یہ اس قسم کا معجزہ ہے کہ نتائج مذکورہ کا اعتراض اسپر وارد نہیں ہوتا کیونکہ سکھہ کر سکتے یں کہ کیا ہاتھی کی کوئی بولنے والی زبان ہو کہ تا با وا نانک کی تصدیق یا تکذیب کرتا غرض عوام تو اپنی چھوٹی سی عقل کی وجہ سے ایسے معجزات پر بہت خوش ہوتے ہیں گر عقلمند غیر قوموں کے اعترانوں کا نشانہ بنکر کوفتہ خاطر ہوتے ہیں اور جس مجلس میں ایسی بیہودہ کہانیاں کی جائیں وہ بہت شرمندہ ہوتے ہیں۔اب چونکہ ہم کو حضرت ح علیہ السلام سے ایسا ہی محبت اور اخلاص کا تعلق ہے جیسا کہ عیسائیوں کو تلی ہے بلکہ ہم بہت بڑھ کر تا ہے کیونکہ وہ نہیں جانے کہ وہ س کی تعریف کرتے ہیں مگرہم جانتے ہیں کہ مکس کی تعریف کرتے ہیں کیونکہ ہم نے ان کو دیکھاہے لہذا اب ہم اس عقیدہ کی اصل حقیقت کو کھولتے ہیں کہ جو انجیلوں میں لکھا ہے کہ صلیب کے واقعہ کے وقت تمام راستباز فوت شدہ زندہ ہوکر شہر میں آگئے تھے۔پس واضح ہو کہ یہ ایک کشفی امر تھا جو صلیب کے واقعہ کے بعد بعض پاک دل لوگوں نے خواب کی طرح دیکھا تھا کہ گو یا مقدس مردے زندہ ہو کر شہر میں آگئے ہیں اور لوگوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور جیسا کہ خوابوں کی تعبیر تعدا کی پاک کتابوں میں کی گئی ہے۔مثلاً جیسا کہ حضرت یوسف کی خواب کی تعبیر کی گئی۔ایسا ہی اس خواب کی بھی ایک تعبیر تھی۔اور وہ یہ تعبیر تھی کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا اور خدا نے اسکو صلیب کی موت سے نجات دیدی۔اور اگر ہم سے یہ سوال کیا جائے کہ یہ تعبیر نہیں کہاں سے معلوم ہوئی تو اس کا یہ جواب ہے کہ فن تعبیر کے اماموں نے ایسا ہی لکھا ہے اور تمام معبرین نے اپنے تجربہ سے سپر گواہی دی ہے۔چنانچہ ہم قدیم زمانہ کی ایک نام فن تعبیر بنے صاحب کتاب تخطیر الانام کی تعبیر کو اسکی اصل عبادت کے ساتھ ذیل میں لکھتے ہیں۔اور وہ یہ ہے۔من رای ان ۲۷۴