مسیحی انفاس — Page 273
۲۷۳ | اور گونگوں کی طرح بیٹھا ہے بلکہ ایسے موقعہ میں دوسرے لوگوں میں بھی فطرتا یہ جوش پیدا ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے پاس دوڑے آتے ہیں اور اس ملک کے حالات اس سے پوچھتے ہیں۔اور اگر ایسا اتفاق ہو کہ ان لوگوں کے ملک میں کوئی غریب شکستہ حال وارد ہو جسکی ظاہری حیثیت غریبا نہ ہو اور وہ دعوی کرتا ہو کہ ہمیں اس ملک کے بادشاہ ہوں جسے پایہ تخت کا سیر کر کے یہ لوگ آئے ہیں۔اور میکں فلاں فلاں بادشاہ سے بھی اپنے شاہانہ مرتبہ ہمیں اول درجہ پر ہوں تو لوگ ایسے سیاحوں سے ضرور پوچھا کتے ہیں کہ بھلا یہ تو بتلائیے کہ فلان شخص جو ان دونوں میں پہلے ملک میں اس ملک سے آیا ہوا ہے کیا سچ مچ یہ اس ملک کا بادشاہ ہے اور پھر وہ لوگ جیسا کہ واقعہ ہو بتلا دیا کرتے ہیں تو اس صورت میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے حضرت مسیح کے ہاتھ سے مردوں کا نہ نہ ہو نا فقط اس حالت میں قابل پذیرائی ہوتا جبکہ وہ گواہی جو اُن سے پوچھی گئی ہوگی جس کا پوچھا جانا ایک طبیعی امر ہے کوئی مفید نتیجہ بخشتی لیکن اس جگہ ایسا نہیں ہے پس تا چار اس بات کے فرض کرنے سے کہ مرے زندہ ہوئے تھے اس بات کو بھی ساتھ ہی فرض کرنا پڑتا ہے کہ ان مردوں نے حضرت مسیح کے حق میں کوئی مصیب گواہی نہیں دی ہوگی جیسے ان کی سچائی تسلیم کیجاتی بلکہ ایسی گواہی دی جی جسے اور بھی فتنہ بڑھ گیا ہو گا۔کاش اگر انسانوں کی جگہ دو سے چار پالوں کا زندہ کرنا بیان کیا جاتا تو اس میں بہت کچھ پردہ پوشی منصور تھی۔مثلاً یہ کہا جاتاکہ حضرت نے کئی ہزار بیل نہ ندہ کئے تھے تو یہ بات بہت معقول ہوتی اور کسی کے اعتراض کے وقت جبکہ مذکورہ بالا اعتراض کیا جاتا لیتے یہ کہا جاتا کہ ان مردوں کی گواہی کا نتیجہ کیا ہو تو ہم فی الفور کہ سکتے کہ وہ تو بیل تھے انکی زبان کہاں تھی جو بھلی یا بری گواہی دیتے بھلا وہ تو لاکھوں مردے تھے جو حضرت مسیح نے زندہ کئے آج مثلاً چند ہندوؤں کو بلا کر پوچھو کہ اگر تمہارے فوت شدہ باپ داد ے دس ہیں زندہ ہو کر دنیا میں واپس آجائیں اور گواہی دیں کہ فلاں مذہب سچا ہے تو کیا پھر بھی تم کو اس مذہب کی سچائی میں شک باقی رہ جائیگا۔تو