مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 632

مسیحی انفاس — Page 272

پر بہتان باندھتا ہے۔تبھی تو لاکھوں انسان بلکہ پیغمبروں اور رسولوں کے زندہ ہونے کے بعد بھی یہودی اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے اور حضرت مسیح کو مار کر پھر دوسروں کے قتل کی طرف متوجہ ہوئے۔بھلا یہ بات سمجھ آسکتی ہے کہ لاکھوں راستباز کہ جو حضرت آدم سے لے کہ حضرت کیٹی تک اس زمین پاک کی قبروں میں سوئے ہوئے تھے وہ سب کے سب زندہ ہو جائیں اور پھر وعظ کرنے کے لئے شہرمیں آئیں اور ہر ایک کھڑا ہو کر ہمزاد ہی انسانوں کے سامنے یہ گواہی دے کہ در حقیقت میسوع مسیح خدا کا بیٹا بلکہ خود خدا ہے اسی کی پو سبا اکیپ کرو اور پہلے خیالات چھوڑو ورنہ تمہارے لئے جہنم ہے جس کو خود ہم دیکھ کر آئے ہیں۔اور پھر باوجود اس اعلی درجہ کی گواہی اور شہادت رویت کے بولا کھوں راستباز مردوں کے منہ سے نکل یہودی اپنے انکار سے باز نہ آئیں۔ہمارا کانشنس تو اس بات کو نہیں مانتا۔پس اگر فی الحقیقت لاکھوں راستباز فوت شدہ پیغمبر اور رسول وغیرہ زندہ ہو کر گواہی کے لئے شہر میں آئے تھے تو کچھ شک نہیں کہ انہوں نے کچھ الٹی ہی گواہی دی ہو گی۔اور ہرگز حضرت مسیح کی خدائی کو تصدیق نہیں کیا ہوگا۔تبھی تو یہودی لوگ مردوں کی گواہیوں کو شنکر اپنے کفر پر پہلے ہو گئے۔اور حضرت مسیح تو اُن سے خدائی منوانا چاہتے تھے۔مگر وہ تو اس گواہی کے بعد نبوت سے بھی منکر ہو بیٹھے۔غرض ایسے عقیدے نہایت مضر اور بد اثر ڈالنے والے ہیں کہ ایسا یقین کیا جائے کہ یہ لاکھوں مردے یا اس سے پہلے کوئی مردہ حضرت مسیح نے زندہ کیا تھا کیونکہ اُن مردوں کے زندہ ہونے کے بعد کوئی نیک نتیجہ پیدا نہیں ہوا۔یہ انسان کی فطرت میں ہے کہ اگر مثلاً کوئی شخص کسی دور دراز ملک میں جاتا ہے اور چند برس کے بعد اپنے شہر میں واپس آتا ہے تو طبعا اُس کے دل میں یہ جوش ہوتا ہے کہ اس ملک کے عجائب غرائب لوگوں کے پاس بیان کرے اور اُس ولایت کے مجیب در عجیب واقعا سے اُن لوگوں کو اطلاع سے نہ یہ کہ اتنی مدت کی جدائی کے بعد جب اپنے لوگوں کو ملے تو زبان بند رکھے