مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 266 of 632

مسیحی انفاس — Page 266

مانا گیا مگر یہ نادرست ہے کشفی طور پر تو ہمیشہ خدا کے برگزیدہ بندے خاص لوگوں کو نظر آجایا کرتے ہیں۔اور کشفی طور میں خواب کی بھی شرط نہیں بلکہ بیداری میں ہی نظر آجاتے ہیں۔چنانچہ میں خود اس میں صاحب تجربہ ہوں۔میں نے کئی دفعہ کشفی طور پر حضرت سی علیہ السلام کو دیکھا ہے۔اور بعض نبیوں سے بھی میں نے عین بیداری میں ملاقات کی ہے۔اور میں نے سید و مولی اپنے امام نبی مد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کوبھی کئی دفعہ عین بیداری میں دیکھا ہے اور باتیں کی ہیں۔اور ایسی صاف بیداری سے دیکھا ہے جسکے ساتھ خواب حالت کا نام ونشان نہ تھا۔اور میں نے بعض اور وفات یافتہ لوگوں سے بھی انکی قبر پر یا اور موقعہ پر عین بیداری میں ملاقات کی ہے اور اُن سے باتیں کی ہیں۔میں خوب جانتا ہوں کہ اس طرح پر عین بیداری میں گذشتہ لوگوں کی ملاقات ہو جاتی ہے اور نہ صرف ملاقات بلکہ گفتگو ہوتی ہے اور مصالحہ بھی ہوتا ہے اور اس بیداری اور روز مرہ کی بیداری میں لوازم تواس میں کچھ بھی فرق نہیں ہوتا۔دیکھا جاتا ہے کہ ہم اسی عالم میں ہیں اور یہی کان ہیں اور یہی آنکھیں میں اور یہی زبان ہے۔گر غور سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عالم اور ہے۔دنیا اس قسم کی بیداری کو نہیں جانتی کیونکہ دنیا غفلت کی زندگی میں پڑی ہے۔یہ بیداری آسمان سے ملتی ہو۔یہ اُنکو دیکھاتی ہے جنگو نئے سو اس ملتے ہیں۔یہ ایک صحیح با ہے، اور واقعات حقہ میں نہر ہے۔پس اگر مسیح اسی طرح یروشلم کی بربادی کے وقت یون کو نظر آیا تھا۔تو گودہ بیداری میں نظر آیا در گ اس سے باتیں بھی کی ہوں اور مصافحہ کیا ہو۔تاہم وہ واقعہ اس پیشگوئی سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتا۔بلکہ یہ ہ امر ہیں جو ہمیشہ دنیا میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں اور اب بھی اگر ہم توجہ کریں تو خدا کے فضل سے میچ کو یا اور کسی مقدس نبی کو میں بیداری میں دیکھ سکتے ہیں۔لیکن ایسی ملاقات سے متی بابت آیت ۲۰ کی پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہو سکتی۔سو اصل حقیقت یہ ہے کہ چونکہ میچ جانتا تھا کہ میں صلیہ سے بچ کر دوسرے ملک میں چلا جاؤنگا اور خدا نہ مجھے ہلاک کرے گا اور نہ دنیا سے اٹھائی گا جب تک کہ میں یہودیوں کی بربادی اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لوں۔اور جب تک کہ وہ بادشاہت جو برگزیدوں ۲۶۶