مسیحی انفاس — Page 265
۲۶۵ آیات سے بکمال صفائی ثابت ہوتا ہے کہ مسح علیات نام نے وعدہ کیا تھا کہ بعض لوگ اُسوقت تک زندہ رہیں گے جبتک کہ وہ پھر واپس ہو اور ان زندہ رہنے والوں میں سے یوحنا کو بھی قرار دیا تھا۔سوضرور تھا کہ یہ وعدہ پورا ہوتا۔چنانچہ عیسائیوں نے بھی اس بات کو مان لیا ہے کہ یسوع کا اُس زمانہ میں جبکہ بعض اہل زمانہ زندہ ہوں پیشگوئی کے پورا کرنے کے لئے آنا نہایت ضروری تھا۔تا وعدہ کے موافق پیش گوئی ظہور میں آوے۔اسی بنا پر پادری صاحبوں کو اس بات کا اقرار ہے کہ یسوع اپنے وعدہ کے موافق یروشلم کی بربادی کے وقت آیا تھا اور یوحنا نے اس کو دیکھا۔کیونکہ وہ اس وقت تک زندہ تھا مگر یاد رہے۔کہ عیسائی اِس بات کو نہیں مانتے کہ مسیح اُس وقت حقیقی طور پر اپنے قرار داد نشانوں کے موافق آسمان سے نازل ہوا تھا بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ایک کشفی رنگ میں یوجنا کو نظر آگیا۔تا اپنی اس پیش گوئی کو پورا کرے۔جو متی باب ۱۶ آیت ۳۰ میں ہے۔نگر میں کہتا ہوں کہ اس قسم کے آنے سے پیش گوئی پوری نہیں ہو سکتی یہ تو نہایت ضعیف تاویل ہے۔گویا نکتہ چینیوں سے نہایت تکلف کے ساتھ پیچھا چھڑانا ہے۔اور یہ معنے اس قدر غلط اور بدیہی البطلان ہیں کہ اس کے رو کرنے کی بھی حاجت نہیں۔کیونکہ اگر مسیح نے خواب یا کشف کے ذریعہ سے کسی پر ظاہر ہونا تھا تو پھر ایسی پیشگوئی گویا ایک ہنسی کی بات تھے۔اس طرح تو ایک مدت اسے پہلے حضرت سیح پولوس پر بھی ظاہر ہو چکے تھے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیشگوئی ہو تی بارے آیت ۲۰ میں ہے اس نے پادری صاحبوں کو نہایت گھبراہٹ میں ڈال رکھا ہے۔اور وہ اپنے عقیدہ کے موافق کوئی معقول معنے اس کے نہیں کرسکے۔کیونکہ یہ کہنا اُن کے لئے مشکل تھا کہ مسی یروشلم کی یہ بادی کے وقت اپنے جلال کے ساتھ آسمان سے نازل ہوا تھا۔اور جس طرح آسمان پر ہر ایک طرف چکنے والی بجلی سب کو نظر آجاتی ہے۔سب نے اُس کو دیکھا تھا۔اور انجیل کے اس فقرہ کو بھی نظر انداز کرنا ان کے لئے آسان نہ تھا کہ اُن میں سے ہو یہاں کھڑے ہیں بعضے ہیں کہ جب تک ابن آدم کو اپنی بادشاہت میں آتے دیکھ نہ لیں موت کا مزہ نہ چکھیں گے۔لہذا نہایت تکلف سے اس پیشگوئی کو کشفی رنگ نہیں