مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 264 of 632

مسیحی انفاس — Page 264

جس قدر نبیوں کے خون کئے ان کا سلسلہ ذکر یا نبی تک ختم ہوگیا۔اور بعد اس کے یہودی لوگ کسی نبی کے قتل کرنے کے لئے قدرت نہیں پائیں گے۔یہ ایک بڑی پیشگوئی ہے اور اس سے نہایت صفائی کے ساتھ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب کے ذریعہ سے قتل نہیں ہوئے بلکہ صلیب سے بچ کر نکل گئے۔اور آخر طبعی موت سے فوت ہوئے۔کیونکہ اگر یہ بات صحیح ہوتی کہ حضرت مسیح علیہ السلام بھی ذکریا کی طرح یہودیوں کے ہاتھ سے قتل ہونے والے تھے تو ان آیات میں حضرت مسیح علیہ السلام ضرور اپنے قتل کئے جانے کی طرف بھی اشارہ کرتے۔اور اگر یہ کہو کہ گو حضرت مسیح علی الت لام بھی یہودیوں کے ہاتھ سے مارے گئے۔لیکن اُن کا مارا جاتا، یہودیوں کے لئے کوئی گناہ کی بات نہیں تھی۔کیونکہ وہ بطور کعت رہ کے مارے گئے تو یہ خیال صحیح نہیں ہے کیونکہ یوحنا بابا آیت میں مسیح نے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ یہودی مسیح کے قتل کرنے کے ارادہ سے سخت گنہ گار ہیں۔اور ایسا ہی اور کئی مقامات میں اسی امر کی طرف اشارہ ہے۔اور صاف لکھا ہے کہ اس جرم کی عوض میں جو مسیح کی نسبت اُن سے ظہور میں آیا خدا تعالے کے نزدیک قابل سزا ٹھر گئے تھے۔دیکھو انجیل بایے آیت ۲۴ - مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۳۴، ۳۵ ار منجملہ ان انجیلی شہادتوں کے ہو ہم کو ٹی میں انجیل متی کی وہ عبارت ہے جوذیل میں کھی جاتی رہیں تم سے ہے کہتا ہوں کہ ان میں سے جو یہاں کھڑے ہیں بعضے ہیں کہ جب تک ابن آدم کو اپنی بادشاہت میں آتے دیکھ نہ لیں موت کا مزہ نہ چکھیں گے یہ دیکھو انخیل متی بابا آیت ۲۸۔ایسا ہی انجیل یوحنا کی یہ عبارت ہے۔یسوع نے اسے کہا کہ اگر میں چاہوں کہ جب تک میں آؤں وہ دینے یوحنا حواری، یہیں ٹھہرے لینے یروشلم میں بھیجو یوحنا باراہل آیت ۲۲ یعنے اگر میں چاہوں تو یوحنا نہ مرے جب تک میں دوبارہ آؤں۔ان ۲۶۴ MA