مسیحی انفاس — Page 217
۲۱۷ کہ وہ صرف مسیح کے خون پر بھرو اور اسی سے کامیاب ہوویں اور کوئی محنت نہ کریں اور مسلمانوں کے بچے محنتیں کر کر کے اور ٹکریں مار مار کر پاس ہوں۔اصل بات یہ ہے۔لَيسَ لِلْإِنسَانِ الأَمَا سَعَى اس دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک انسان جب اپنے نفس کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے فسق و فجور وغیرہ معلوم ہوتے ہیں۔آخر وہ یقین کی حالت پر پہنچ کر ان کو صیقل کر سکتا ہے۔لیکن جب خون مسیح پر مدار ہے تو مجاہدات کی کیا ضرورت ہے۔ان کی جھوٹی تعلیم بچی ترقیات سے روک رہی تو ہے۔سچی تعلیم والا دعائیں کرتا ہے ، کوششیں کرتا ہے، آخر دور تا دوڑتا اور ہاتھ پاوں مارتا ہوا منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے۔جب یہ بات ان کو سمجھ آئے گی کہ یہ سب باتیں (خون صحیح پر بھروسہ ) قصہ کہانی ہیں اور ان سے اب کوئی آثار اور نتائج مرتب نہیں ہوتے۔اور ادھر کچی تعلیم کی تخم ریزی کے ساتھ برکات ہوں گی تو یہ لوگ خود سمجھ لیں گے۔انسان کھیتی کرتا ہے۔اس میں بھی محنت کرنی پڑتی ہے۔اگر ایک ملازم ہے تو اسے بھی محنت کا خیال ہے غرضیکہ ہر ایک اپنے اپنے مقام پر کوشش میں لگا ہے اور سب کا شمرہ کوشش پر ہی ہے۔سارا قرآن کوشش کے مضمون سے بھرا پڑا للانسان الا ما سعی ان لوگوں کو جو ولایت ہے۔میں خون مسیح پر ایمان لا کر بیٹھے ہیں کوئی پوچھے کہ کیا حاصل ہوا۔مردوں یا عورتوں نے خون پر ایمان لا کر کیا ترقی حاصل کی۔یہ باتیں ہیں جو بار بار ان کے کانوں تک پہنچانی چاہئیں۔ملفوظات۔جلد ۴ صفحه ۲۸۹، ۲۹۰ تعلیم ١٨٨ ترک معاصی اور شئے ہے اور نیکیوں کا حصول اور قرب الہی دوسری شئے ہے۔عیسائیوں نے بھی اس معاملہ میں بڑا ہو کا کھایا ہے اور اس واسطے انہوں نے کفارہ د کا مسئلہ ایجاد کیا ہے کہ یسوع کے پھانسی ملنے سے ہمارے گناہ دور ہو گئے۔اول تو یہ بات گناہ سے بچنے کی قرآنی ہی غلط ہے کہ ایک شخص کا پھانسی مناسب کے گناہ دور کر دے۔دوم اگر گناہ دور بھی ہو جاویں تو صرف گناہ کا موجود ہونا کوئی خوبی کی بات نہیں ہے۔بہت کیڑے مکوڑے اور بھیڑ بکریاں دنیا میں موجود ہیں جن کے ذمہ کوئی گناہ نہیں لیکن وہ خدا تعالیٰ کے مقربوں میں سے نہیں شمار ہو سکتے اور ایسا ہی کثرت سے اس قسم کے اہلہ اور سادہ لوح لوگ موجود