مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 218 of 632

مسیحی انفاس — Page 218

۲۱۸ ۱۸۹ جو کوئی گناہ نہیں کرتے نہ چوری ، نہ زنا نہ جھوٹ نہ بد کاری، نہ خیانت۔لیکن ان گناہوں کے نہ کرنے کے سبب وہ مقربان الہی میں شمار نہیں ہو سکتے۔انسان کی خوبی اس میں ہے کہ وہ نیکیاں اختیار کرے اور خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کے کام کرنے اور معرفت الہی کے مدارج حاصل کرے اور روحانیت میں ترقی کرے اور ان لوگوں میں شامل ہو جاوے جو بڑے بڑے انعام حاصل کرتے ہیں۔اس کے واسطے قرآن شریف میں دونوں باتوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ایک ترک گناہ اور دوم حصول قرب الہی۔ملفوظات۔جلد ۹ صفحه ۲۹ عیسائی جو کچھ پیش کرتے ہیں وہ اور بھی عجیب ہے۔وہ خدا تعالیٰ کو رحیم تو مانتے ہیں ادہ اور ہے۔وہ خداتعالی مانتے اور کہتے ہیں کہ وہ رحیم ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ رحم بلا مبادلہ نہیں کر خداتعالی رحیم ہے مر سکتا۔جب تک بیٹے کو پھانسی نہ و دے لے اس کار رحم کچھ بھی نہیں کر سکتا۔تعجب اور بیٹے کی پھانسی ضروری ہے۔مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔جب اس عقیدہ کے مختلف پہلوں پر نظ پہلووں پر نظر کی جاتی ہے اور پھر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے اکلوتے بیٹے کو پھانسی بھی دیا لیکن یہ نسخہ رحم پھر بھی خطا ہی گیا۔سب سے پہلے تو یہ کہ یہ نسخہ اس وقت یاد آیا جب بہت سی مخلوق گناہ کی موت سے تباہ ہو چکی اور ان پر کوئی رحم نہ ہو سکا کیونکہ پہلے کوئی بیٹا پھانسی پرنہ چڑہا اور علاوہ بریں اگر چہ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ زید کے سر میں درد ہو اور بکر اپنا سر پتھر سے پھوڑے اور یہ سمجھا جاوے کہ اس نسخہ سے زید کو آرام ہو جاوے گا۔لیکن اس کو بفرض محال مان کر بھی اس نسخہ کا جو اثر ہوا ہے وہ تو بہت ہی خطرناک ہے۔جب تک یہ نسخہ استعمال نہیں ہوا تھا اکثر لوگ نیک تھے اور توبہ اور استغفار کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر چلنے کی کوشش کرتے تھے مگر جب یہ نسخہ گھڑا گیا کہ ساری دنیا کے گناہ خدا کے بیٹے کے پھانسی پانے کے ساتھ معاف ہو گئے تو اس سے بجائے اس کے کہ گناہ رُکتا، گناہ کا ایک اور سیلاب جاری ہو گیا اور وہ بند جو اس سے پہلے خدا تعالیٰ کے خوف اور شریعت کا لگا ہوا تھا ٹوٹ گیا۔جیسا کہ یورپ کے حالات سے پتہ لگتا ہے کہ اس مسئلہ نے وہاں کیا اثر کیا ہے اور فی الحقیقت ہونا بھی یہنی چاہئے تھا۔پھر جب یہ بات ہے اور حالت ایسی ہے تو ہم کیونکر تسلیم کریں کہ وہ خدا جو اس رنگ میں دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے وہ حقیقی خدا ہے۔