مسیحی انفاس — Page 216
۱۸۷ کمالات مجاہدات سے نہ سوا اور کیا چاہئے۔پھر ان کو اعمال حسنہ کی ضرورت کیا باقی رہی۔اگر کفارہ پر ایمان لا کر بھی نجات کا خطرہ اور اندیشہ باقی ہے تو یہ امر دیگر ہے کہ اعمال کئے جائیں لیکن اگر نجات خون مسیح کے ساتھ ہی وابستہ ہے تو کوئی عقلمند نہیں مان سکتا کہ پھر ضرورت اعمال کی کیا باقی ہے۔اس لئے میں یہ تعلیم کبھی دینا نہیں چاہتا اور نہ اسلام مر نے دی کہ تم اپنے گناہوں کی گھر ہی کسی دوسرے کی گردن پر لاد دو اور خود اباحت کی زندگی بسر کرو۔قرآن شریف نے صاف فیصلہ کر دیا ہے لا تزر وازرة وزرى أخرى۔ایک دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا اور نہ دنیا میں اس کی کوئی نظیر خدا تعالیٰ کے عام قانون قدرت میں ملتی ہے۔کبھی نہیں دیکھا جانا کہ زید مثلاً سنکھیا کھا لیوے اور اسی سنکھیا کا اثر بکر پر ہو جاوے اور وہ جاوے۔یا ایک مریض ہو اور دوسرے آدمی کے دوا کھا لینے سے وہ اچھا ہو جاوے بلکہ ہر ایک بجائے خود متاثر ہو گا۔پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایک شخص ساری عمر گناہ کرتا رہے اور دلیری کے ساتھ خدا تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کرتا رہے اور لکھ دے کہ میرے گناہوں کا بوجھ دوسرے شخص کی گردن پر ہے۔جو شخص ایسی امید کرتا ہے وہ۔دماغ بیده پخت و خیال باطل بست کا مصداق ہے۔پس اسلام کسی سہارے پر رکھنا نہیں چاہتا کیونکہ سہارے پر رکھنے سے ابطال اعمال لازم آجاتا ہے۔لیکن جب انسان سہارے کے بغیر زندگی بسر کرتا ہے۔اور اپنے آپ کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے اس وقت اس کو اعمال کی ضرورت پڑتی ہے اور کچھ کرنا پڑتا ہے۔اسی لئے قرآن شریف نے فرمایا ہے قَدْ أَفْلَحَ مَن زَعَها - فلاح وہی پاتا ہے جو اپنا تزکیہ کرتا ہے۔خود اگر انسان ہاتھ پاوں نہ ہلائے تو بات نہیں بنتی۔ملفوظات۔جلد ۴ صفحه ۴۲۶، ۴۲۷ کملات تو انسان کو مجاہدات سے حاصل ہوتے ہیں مگر جن کو سہل نسخہ مسیح کے خون کا حامل رہے ہیں۔یہ مل گیاوہ کیوں مجاہدات کریں گے۔اگر مسیح کے خون سے کامیابی ہے تو پھر ان کے لڑکے کسی کے خون سے امتحان پاس کرنے کے واسطے کیوں مدرسوں میں محنتیں اور کوششیں کرتے ہیں چاہئے