مسیحی انفاس — Page 177
122 حیوانات کی موت ثابت ہوتی ہے اور اگر اس سے بھی در گزر کریں تو کیا ہم دوسرے امر سے بھی انکار کر سکتے ہیں کہ آدم بہشت میں ضرور پانی پیتا تھا کیونکہ کھٹاور پین ہمیشہ سے ایک دوسرے سے لازم پڑے ہوئے ہیں۔اور طبعی تحقیقات سے ثابت ہے کہ ہر ایک قطرہ میں کئی ہزار کیڑے ہوتے ہیں۔پس کچھ شک نہیں کہ آدم کے گناہ سے پہلے کروڑہا کیڑے مرتے تھے۔پس اس سے بہر حال ماننا پڑتا ہے کہ موت گناہ کا پھل نہیں۔اور یہ امر عیسائیوں کے اصول کو باطل کرتا ہے۔کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۷۴ یادر ہے کہ یہ خوا کا گناہ تھا کہ براہ راست شیطان کی بات کو مانا اور خدا کے حکم کو توڑا اور پیچ تو یہ ہے کہ خوا کا نہ ایک گناہ بلکہ چار گناہ تھے۔(۱) ایک یہ کہ خدا کے حکم کی بے حوا کے چلا گناہ تھے۔عزتی کی اور اس کو جھوٹا سمجھ لیا۔(۲) دوسرا یہ کہ خدا کے دشمن اور ابدی لعنت کے مستحق اور جھوٹ کے پہلے شیطان کو سچا سمجھ لیا۔(۳) تیسرا یہ کہ اس نافرمانی کو صرف عقیدہ تک محدود نہ رکھا بلکہ خدا کے حکم کو توڑ کر عملی طور پر ارتکاب معصیت کیا۔(۴) چو تھا یہ کہ حوا نے نہ صرف آپ ہی خدا کا حکم توڑا بلکہ شیطان کا قائم مقام بن کر آدم کو بھی دھوکا دیا۔تب آدم نے محض حوا کی دھوکا دہی سے وہ پھل کھایا جس کی ممانعت تھی اسی وجہ سے حوا خدا کے نزدیک سخت گنہگار ٹھری مگر آدم معذور سمجھا گیا آدم معذور سمجھا گیا۔محض ایک خفیف خطا جیسا کہ آیت ولم نجد له عنما سے ظاہر ہے یعنی اللہ تعالی اس آیت میں فرماتا ہے کہ آدم نے عمداً میرے حکم کو نہیں توڑابلکہ اس کو یہ خیال گذرا کہ خوا نے جو یہ پھل کھایا اور مجھے دیا شائد اس کو خدا کی اجازت ہو گئی جو اس نے ایسا کیا۔یہی خدا تعالی نے اپنی کتاب وجہ ہے کہ خدا نے اپنی کتاب میں حوا کی برتیت ظاہر نہیں فرمائی مگر آدم کی برتیت ظاہر کی ہیں جو کی بریت ظاہر نہیں فرمائی۔یعنی اس کی نسبت لم نجد له عزما فرمایا اور حوا کو سخت سزادی۔مرد کا محکوم بنایا اور اس کا دست نگر کر دیا اور حمل کی مصیبت اور بچے جنے کا دکھ اس کو لگادیا اور آدم چونکہ جس شخص کی پیدائش خدا کی صورت پر بنایا گیا تھا اس لئے شیطان اس کے سامنے نہ آسکا۔اسی جگہ سے یہ میں زکا حصہ نہیں وہ بات نکلتی ہے کہ جس شخص کی پیدائش میں نر کا حصہ نہیں وہ کمزور ہے اور توریت کے رو کر وہ ان کے آدم گناہ سے نہیں مرا سے اس کی نسبت کہنا مشکل ہے کہ وہ خدا کی صورت پر یا خدا کی مانند پیدا کیا گیا۔ہاں آدم کار را ابتدا ہے بھی ضرور مر گیا۔لیکن یہ موت گناہ سے پیدا نہیں بلکہ مرنا ابتدا سے انسانی بناوٹ کا خاصہ انسانی بناوٹ کا نام ہے۔