مسیحی انفاس — Page 178
IZA تھا۔اگر گناہ نہ کر تاتب بھی مرتا۔منہ تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد ۱۷ - صفحه ۲۷۳ حاشیه در حاشیه حضرت آدم کی نسبت تو خدا خود فرماتا ہے لم نجد له عنما یعنی آدم نے یہ کام اراد تا نہیں کیا۔اب گناہ توارادہ پر منحصر ہے۔اگر ایک شخص زہر پی لے اور اس کو علم ہو حضرت آدم کبھی ہوئے۔شرک میں جتنا نہیں کہ یہ زہر ہے اور اس کا نتیجہ موت ہو گا تو ایسی صورت میں وہ ایک گناہ کا مر تکب ہوتا ہے لیکن اگر وہ اس کو بغیر علم کے پی لے تو اگر چہ اس کو نتیجہ بھگتنا پڑے گا مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس گناہ کیا۔یہی حال حضرت آدم علیہ السلام کا ہے ہمیں بائیل سے معلوم ہوتا ہے کہ حوا نے ان کو یہ پھل دیا تھا ان کو یہ علم نہ تھا کہ یہ وہی ممنوعہ پھل ہے۔ان کا یہ کام بیشک خدا تعالیٰ کے حکم کے خلاف تھا مگر انہوں نے اس حکم کو عمدا نہیں توڑا اس لئے ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ انہوں نے گناہ کیا۔اس پھل کے کھانے کا وہی نتیجہ نکلا جو زہر کھانے سے نکلتا ہے کیونکہ قدرت اپنا کام کرنے سے رک نہیں سکتی مگر اس صورت میں کوئی گناہ نہیں تھا کیونکہ کوئی ارادہ نہیں تھا۔حضرت آدم کبھی شرک کے مرتکب نہیں ہوئے۔شرک ایک ناقابل عفو گناہ ہے اور خدا کے پاک لوگ ایسا گناہ نہیں کر سکتے جس آیت کا عیسائی حوالہ دیتے ہیں اس میں حضرت آدم کا نام نہیں ہے اس میں صرف عام انسانوں کے میلان کا ذکر ہے جو شرک کی طرف ان میں پایا جاتا ہے۔ریویو آف ریلیجنز جلد ۲ نمبر ۶ صفحه ۲۵۰ شرک عورت سے شروع ہوا ہے اور عورت سے اسکی بنیاد پڑی ہے یعنی خوا سے جس نے خدا تعالیٰ کا حکم چھوڑ کر شیطان کا حکم مانا۔اور شرک عظیم یعنی عیسائی مذہب کی شرک عورت سے حامی بھی عورتیں ہی ہیں۔در حقیقت عیسائی مذہب ایسا مذ ہب ہے کہ انسانی فطرت دور شروع ہوا۔سے اس کو دھکے دیتی ہے اور وہ کبھی اس کو قبول ہی نہیں کر سکتی۔۱۵۰ ملفوظات جلد ۸ صفحه ۳۴۸) یسوع کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ وہ موروثی اور کسی گناہ سے پاک ہے۔حالانکہ