مسیحی انفاس — Page 176
129 منقطع سلسلہ لعنتوں کا جو قیامت تک ممتد ر ہے گا اگر وہ ہمیشہ تازہ طور پر غریب یسوع پر ڈالا جائے تو کس زمانے میں اس کو لعنتوں سے سبکدوشی ہوگی کیونکہ جب وہ ایک گروہ کی لعنتوں سے اپنے تئیں سبکدوش کر لیگا تو پھر نیا آنے والا گر وہ جو اپنے خبیث وجود کے ساتھ نئی نعتیں رط لعنتیں رکھتا ہے وہ اپنی تمام لعنتیں اس پر ڈال دے گا۔علی ہذالقیاس اس کے بعد دوسرا گر وہ دوسری لعنتوں کے ساتھ آئے گا تو پھر اس مسلسل لعنتوں سے فرصت کیونکر ہوگی؟ اس تو مانا پڑتا ہے کہ یسوع کے لئے وہ دن پھر کبھی نہیں آئیں گے جو اس کو خدا کی محبت اور معرفت کے نور کے سایہ میں رکھنے والی ہوں۔پس ایسے عقیدہ سے اگر کچھ حاصل ہوا تو وہ یہی کہ ان لوگوں نے ایک خدا کے مقدس کو ایک غیر منقطع ناپاکی میں ڈالنے کا ارادہ کیا ہے اور بد قسمتی سے اس اصل بات کو چھوڑ دیا ہے جس سے گناہ دور ہوتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ وہ آنکھ پیدا کرنا جو خدا کی عظمت کو دیکھے اور وہ یقین حاصل کرنا جو گناہ کی تاریکی سے چھوڑا دے۔زمین تاریکی پیدا کرتی ہے اور آسمان تاریکی کو اٹھاتا ہے پس جب تک آسمانی نور جو نشانوں کے رنگ میں حاصل ہوتا ہے کسی دل کو نہ چھوڑاوے حقیقی پاکیزگی حاصل ہو جاتا بالکل جھوٹ ہے اور سراسر باطل اور خیال محال ہے۔پس گناہوں سے بچنے کے لئے اس نور کی تلاش میں لگنا چاہئے جو یقین کی کرار فوجوں کے ساتھ آسمان سے نازل ہوتا اور ہمت بخشا اور قوت بخشا اور تمام شبہات کی غلاظتوں کو دھو دیتا اور دل کو صاف کرتا اور خدا کی ہمسائیگی میں انسان کا گھر بنا دیتا ہے۔ر کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۶۲ تا ۶۴ ایک اعتراض جو میں نے پادریوں کے اصول پر کیا تھا یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ” انسان اور تمام حیوانات کی موت آدم کے گناہ کا پھل ہے " حالانکہ یہ خیال دو طور سے صحیح نہیں ہے اول یہ کہ کوئی محقق اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ آدم کے وجود سے کیا موت آدم کے پہلے بھی ایک مخلوقات دنیا میں رہ چکی ہے اور وہ مرتے بھی تھے اور اس وقت نہ آدم موجود گناہوں کا پھل ہے ؟ تھا اور نہ آدم کا گناہ پس یہ موت کیونکر پیدا ہو گئی۔دوسرے یہ کہ اس میں شک نہیں که آدم بہشت میں بغیر ایک منع کئے ہوئے پھل کے اور سب چیزیں کھاتا تھا اپس کچھ شک نہیں ہو سکتا کہ وہ گوشت بھی کھاتا ہو گا۔اس صورت میں بھی آدم کے گناہ سے پہلے