مسیحی انفاس — Page 175
۱۷۵ پایہ تخت میں انعقاد فرماویں کہ یہ روحانی طور پر ایک یاد گار ہوگی۔مگر یہ جلسہ قیصر روم کی نسبت زیادہ توسیع کے ساتھ ہونا چاہئے کیونکہ ہماری ملکہ معظمہ بھی اس قیصر کی نسبت زیادہ وسعت اقبال رکھتی ہیں۔تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۲۷۶ تا ۲۷۹ وہ تمام باتیں جو دنیا کے لوگوں نے گناہ سے بچنے کے لئے بنائی ہیں جیسے کفارہ مسیح وغیرہ۔یہ طفلانہ خیالات ہیں جو نہایت محدود اور غلطیوں سے پر ہیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ ۱۴۵ کسی ایک کے سر پر چوٹ لگنے سے ہمارے سر کا درد نہیں جاسکتا اور کسی کے بھوکے رہنے گناہ سے بچنے کا طریق اور یسوع سے لعنتوں سے ہم سیر نہیں ہو سکتے۔ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ جس طرح ڈاکٹر مرض کی تشخیص کرتا ہے یا کا رفیعی جس طرح اہل مساحت زمین کو نا پتا ہے اسی طرح ہمارا دل نہایت محکم یقین کے ساتھ معلوم کر چکا ہے کہ کسی انسان کے نفسانی جذبات کا سیلاب بجز اس امر کے تھم ہی نہیں سکتا کہ ایک چمکتا ہوا یقین اس کو حاصل ہو کہ خدا ہے۔۔۔۔۔افسوس کہ عیسائیوں کو یہ دکھانا چاہئے تھا کہ یہ یقین ہستی باری جو انسان کو خدا ترسی کی آنکھ بخشتا ہے اور گنہ کے خس و خاشاک کو جلاتا ہے۔اس کا سامان انجیل نے ان کو کیا بخشا ہے؟ بیہودہ طریقوں سے گنہ کیونکر دور ہو سکتا ہے ؟ افسوس کہ یہ لوگ نہیں سمجھے کہ یہ کیسا ایک بے حقیقت امر اور ایک فرضی نقشہ کھینچتا ہے کہ تمام دنیا کے گناہ ایک شخص پر ڈالے گئے اور گنہگاروں کی لعنت ان سے لی گئی اور یسوع کے دل پر رکھی گئی اس سے تو لازم آتا ہے کہ اس کاروائی کے بعد بجز یسوع کے ہر ایک کو پاک زندگی اور خدا کی معرفت حاصل ہو گئی ہے مگر نعوذ باللہ یسوع ایک ایسی لعنت کے نیچے دبایا گیا جو کروڑہا لعنتوں کا مجموعہ تھی۔لیکن جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر ایک انسان کے گناہ اس کے ساتھ ہیں اور فطرت نے جس قدر کسی کو کسی جذبہ نفسانی یا افراط اور تفریط کا حصہ دیا ہے وہ اس کے وجود میں محسوس ہو رہا ہے گوہ یسوع کو مانتا ہے یا نہیں تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جیسا کہ لعنتی زندگی والوں کی لعنتی زندگی ان سے علیحدہ نہیں ہو سکی ایسا ہی وہ یسوع پر بھی پڑ نہیں سکی کیونکہ جب کہ لعنت اپنے محل پر خوب چسپاں ہے تو وہ یسوع کی طرف کیونکر منتقل ہو سکے گی۔اور یہ عجیب ظلم ہے کہ ہر ایک خبیث اور ملعون جو یسوع پر ایمان لاوے تو اس کی لعنت یسوع پر پڑے اور اس شخص کو بری اور پاکدامن سمجھا جائے پس ایسا غیر