مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 632

مسیحی انفاس — Page 174

درخواست۔جیسا کہ لعنت کا مفہوم دلالت کرتا ہے۔اور عقل کے ذریعہ سے اس طرح پر کہ عقل ہر گز باور نہیں کرتی کہ جو خدا کانہی اور خدا کا وحید اور اس کی محبت سے بھرا ہوا ہو۔اور جس کی سرشت نور سے مخمر ہو۔اس میں نعوذ باللہ بے ایمانی اور نافرمانی کی تاریکی آجائے یعنی وہی تاریکی جس کو دوسرے لفظوں میں لعنت کہتے ہیں۔اور آسمانی نشانوں کے رُو سے اس طرح پر کہ خدا اب آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے خبر دے رہا ہے کہ مسیح کی نسبت جو قرآن نے بیان کیا کہ وہ لعنت سے محفوظ رہا۔اور ایک سیکنڈ کے لئے بھی اس کا دل لعنتی نہیں ہوا یہی سچ ہے۔وہ نشان اس عاجز کے ذریعہ سے ظاہر ہورہے ہیں۔اور بہت سے نشان ظاہر ہو چکے ہیں اور بارش کی طرح برستے ہیں۔سواے ہماری عالم پناہ ملکہ خدا تجھے بے شمار فضلوں سے معمور کرے۔اس مقدمہ کو اپنی قدیم منصفانہ عادت کے ساتھ فیصلہ کر۔میں با ادب ایک اور عرض کرنے کے لئے بھی جرات کرتا ہوں کہ تواریخ سے ثابت ہے کہ قیاصرہ روم میں سے جب تیسر ا قیصر روم تخت نشین ہوا اور اس کا اقبال کمال کو پہنچ قیصر روم کی طرح فرقہ گیا تو اسے اس بات کی طرف توجہ پیدا ہوئی کہ دو مشہور فرقہ عیسائیوں میں جو ایک موحد اور موحدین اور مشرکین میں مبارہ کرانے کی دوسرا حضرت مسیح کو خدا جانتا تھا۔باہم بحث کرا دے۔چنانچہ وہ بحث قیصر روم کے حضور میں بڑی خوبی اور انتظام سے ہوئی۔اور بحث کے سننے کے لئے معزز ناظرین اور ارکان دولت کی صدہا کرسیاں بلحاظ رتبہ و مقام کے بچھائی گئیں۔اور دونوں فریق کے پادریوں کی چالیس دن تک بادشاہ کے حضور میں بحث ہوتی رہی۔اور قیصر روم بخوبی فریقین کے دلائل سنتا رہا۔اور ان پر غور کرتا رہا۔آخر جو موحد فرقہ تھا اور حضرت یسوع مسیح کو صرف خدا کار سول اور نبی جانتا تھا۔وہ غالب آگیا۔اور دوسرے فرقہ کو ایسی شکست آئی کہ اسی مجلس میں قیصر روم نے ظاہر کر دیا کہ میں نہ اپنی طرف سے بلکہ دلائل کے زور سے موحد فرقہ کی طرف کھینچا گیا۔اور قبل اس کے جو اس مجلس سے اٹھے۔توحید کا مذہب اختیار کر لیا۔اور ان موحد عیسائیوں میں ہو گیا جن کا ذکر قرآن شریف میں بھی ہے۔اور بیٹا اور خدا کہنے سے دستبردار ہو گیا۔اور پھر تیسرے قیصر تک ہر ایک وارث تخت روم موحد ہوتا رہا۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ ایسے مذہبی جلسے پہلے عیسائی بادشاہوں کا دستور تھا۔اور بڑی بڑی تبدیلیاں ان سے ہوتی تھیں۔ان واقعات پر نظر ڈالنے سے نہایت آرزو سے دل چاہتا ہے کہ ہماری قیصرہ ہند دام اقبالہا بھی قیصر روم کی طرح ایساند ہی جلسہ