مسیحی انفاس — Page 158
شیطان میں ذرہ فرق نہیں رہتا تو اس وقت ہم حضرات پادری صاحبوں سے بکمال ادب یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا یہ سچ ہے کہ در حقیقت یہ لعنت اپنے تمام لوازم کے ساتھ جیسا کہ ذکر کیا گیا یسوع پر خدا تعالیٰ کی طرف سے پڑگئی تھی اور وہ خدا کی لعنت اور غضب کے نیچے آکر سیاہ دل اور خدا سے رو گردان ہو گیا تھا۔میرے نزدیک تو ایسا شخص خود لعنتی ہے کہ ایسے برگزیدہ کا نام لعنتی رکھتا ہے جو دوسرے لفظوں میں سیاہ دل اور خدا سے بر گشتہ اور شیطان سیرت کہنا چاہئے۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ایسا پیارا در حقیقت اس لعنت کے نیچے آ گیا تھاجو پوری پوری خدا کی دشمنی کے بغیر متحقق نہیں ہو سکتی۔کیونکہ لعنت کے لئے یہ بات ضروری ہے کہ خدا لعنتی انسان کا واقعی طور پر دشمن ہو جائے اور ایسا ہی لعنتی انسان خدا کا دشمن ہو جائے اور اس دشمنی کی وجہ سے بندروں اور سوڑوں اور کتوں سے بد تر ہو جائے کیونکہ بندر وغیرہ خدا تعالیٰ کے دشمن نہیں ہیں۔لیکن لعنتی انسان خدا تعالی کا دشمن ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ کوئی لفظ اپنے لوازم سے الگ نہیں ہو سکتا۔جب ہم ایک کو سیاہ دل اور شیطان یا بندر اور کتا کہیں گے تو تبھی کہیں گے کہ جب شیطان اور بندروں اور کتوں کے صفات اس میں موجود ہو جائیں۔پس جبکہ تمام دنیا کے اتفاق سے لعنت کا یہی مفہوم ہے تو یہ دو باتیں ایک وقت میں کب جمع ہو سکتی ہیں کہ ایک شخص بمقتضائے مفہوم لعنت خدا سے برگشتہ بھی ہو اور با خدا بھی، اور خدا کا دشمن بھی ہو اور دوست بھی، اور منکر بھی ہو اور اقراری بھی۔محبت کا تعلق لعنت کے مفہوم کو منافی ہے جبھی کہ ایک پر لعنت پڑ گئی اسی وقت خدا سے جتنے قرب اور محبت اور رحم کے تعلقات تھے، تمام ٹوٹ گئے۔اور ایسا شخص شیطان ہو گیا۔اور سیاہ دل اور خدا کا منکر بن گیا۔اب اگر خدا نخواستہ کچھ دنوں تک یسوع پر لعنت پڑ گئی تھی تو اس کا خدا تعالیٰ سے ابدیت کا علاقہ اور پیارا بیٹا ہونے کا لقب کیونکر باقی رہ سکتا تھا کیونکہ بیٹا ہونا تو یکطرف خود پیارا ہوتا لعنت کے مفہوم کے بر خلاف ہے۔خدا کے کسی پیارے کو ایک دم کے لئے بھی شیطان کہنا کسی شیطان کا کام ہے نہ انسان کا پس میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی شریف آدمی ایک سیکنڈ کے لئے بھی یسوع کے لئے یہ تمام نام جائز رکھے جو لعنت کی حقیقت اور روح ہیں۔پس اگر جائز نہیں تو دیکھو کہ کفارہ کی تمام عمارت گر گئی اور شلینی مذہب ہلاک ہو گیا اور صلیب ٹوٹ گیا۔کیا کوئی دنیا میں ہے جو اس کا جواب دے ؟ ۱۵۸