مسیحی انفاس — Page 159
۱۵۹ را تم غلام احمد قادیانی ۲ مارچ ۱۸۹۷ - مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۳۳۳ تا ۳۳۵ لعنت کا مفہوم اور حضرت مسیح علیہ السلام کو لعنتی ٹھرانے کا عقیدہ جو عیسائیوں کے مذہب کا اصل الاصول ہے ایسا صریح البطلان ہے کہ ایک سطحی خیال کا انسان بھی معلوم کر سکتا ہے کہ کسی طرح ممکن نہیں کہ ایسا مذ ہب سچا ہو جسکی بنیاد ایسے عقیدے پر ہو جو ایک راست باز تشریح کے دل کو لعنت کے سیاہ داغ کے ساتھ ملوث کرنا چاہتا ہے۔کیونکہ لعنت کا لفظ جو عربی اور عبرانی میں مشترک ہے نہایت پلید معنے رکھتا ہے۔اور اس لفظ کے ایسے خبیث معنے ہیں کہ بجزر شیطان کے اور کوئی اس کا مصداق نہیں ہو سکتا۔کیونکہ عربی اور عبرانی کی زبان میں ملعون اس کو کہتے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کی رحمت سے ہمیشہ کے لئے رد کیا جائے اسی وجہ سے لعین شیطان کا نام ہے۔کیونکہ وہ ہمیشہ کے لئے رحمت الہی سے رد کیا گیا ہے اور خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں میں توریت سے قرآن شریف تک کسی ایسے شخص کی نسبت ملعون ہونے کا لفظ نہیں بولا گیا۔جس نے انجام کار خدا کی رحمت اور فضل سے حصہ لیا ہو۔بلکہ ہمیشہ سے یہ ملعون اور لعنتی کالفظ انہی ازلی بد بختوں پر اطلاق پاتا رہا ہے جو ہمیشہ کے لئے خدا تعالیٰ کی رحمت اور نجات اور نظر محبت سے بے نصیب کئے گئے اور خدا کے لطف اور مہربانی اور فضل سے ابدی طور پر دور اور مہجور ہو گئے۔اور ان کا رشتہ دائمی طور پر خدا تعالیٰ سے کاٹ دیا گیا اور اس جہنم کا خود ان کے لئے قرار پایا جو خدا تعالی کے غضب کا جہنم ہے اور خدا تعالیٰ کی رحمت میں داخل ہونے کی امید نہ رہے اور نبیوں کے منہ سے بھی یہ لفظ کبھی ایسے اشخاص کی نسبت اطلاق نہیں پایا جو کسی وقت خدا کی ہدایت اور فضل اور رحم سے حصہ لینے والے تھے۔اس لئے یہودیوں کی مقدس کتاب اور اسلام کی مقدس کتاب کی رو سے یہ عقیدہ متفق علیہ مانا گیا ہے کہ جو شخص ایسا ہو کہ خدا کی کتابوں میں اس پر ملعون کا لفظ بولا گیا ہو وہ ہمیشہ کے لئے خدا کی رحمت سے محروم اور بے نصیب ہوتا ہے۔جیسا کہ اس آیت میں بھی اشارہ ہے ملعونین اینا ثقفوا الخذوا وقتلوا تقتیلا۔یعنی زنا کار اور زنا کاری کی اشاعت کرنے والے جو مدینہ میں ہیں یہ لعنتی ہیں یعنی ہمیشہ کے لئے خدا کی رحمت سے رد کئے گئے۔اس لئے یہ اس لائق ہیں کہ جہاں ان کو پاؤ