مسیحی انفاس — Page 157
۱۵۷ کفارہ اور نیز گناہوں کی معافی کا مسئلہ کالعدم ہو کر اس کا باطل ہونا بد یہی طور پر ثابت ہو جاتا ہے۔اگر کسی کو اس مذہب کی حمایت منظور ہے تو جلد جواب دے۔ورنہ دیکھو یہ ساری عمارت گر گئی اور اس کا گرنا ایسا سخت ہوا کہ سب عیسائی عقیدے اس کے نیچے کچلے گئے۔نہ تثلیث رہی نہ کفارہ نہ گناہوں کی معافی۔خدا کی قدرت دیکھو کہ کیسا کسیر صلیب ہوا۔اب ہم صفائی اعتراض کے لئے پہلے لعنت کی رو سے لعنت کے لفظ کے معنی کرتے ہیں اور پھر اعتراض کو بیان کر دیں گے سو جانا چاہئے کہ لسان العرب میں کہ جو لغت کی ایک پرانی کتاب اسلامی تالیفات میں سے ہے۔اور ایسا ہی قطر المحیط اور محیط اور اقرب الموارد میں جو دو عیسائیوں کی تالیفات ہیں جو حال میں بمقام بیروت چھپ کر شائع ہوئی کی ہیں اور ایسا ہی کتب لغت کی تمام کتابوں میں جو دنیا میں پائی جاتی ہیں، لعنت کے معنے یہ لکھے ہیں۔اللعن الابعاد والطرد من الخير ومن الله ومن الخلق و من أبعده الله لم تلحقه رحمته وخلّد في العذاب واللعين الشيطان والممسوخ وقال الشماخ مقام الذئب كالرجل اللعین۔( لعن کا لفظ عربی اور عبرانی میں مشترک ہے ) یعنی لعنت کا مفہوم یہ ہے کہ لعنتی اس کو کہتے ہیں جو ہر یک خیر و خوبی اور ہر قسم کی ذاتی صلاحیت اور خدا کی رحمت اور خدا کی معرفت سے بلکلی بے بہرہ اور بے نصیب ہو جائے اور ہمیشہ کے عذاب میں پڑے یعنی اس کا دل بکتی سیاہ ہو جائے اور بڑی نیکی سے لے کر چھوٹی نیکی تک کوئی خیر کی بات اس کے نفس میں باقی نہ رہے اور شیطان بن جائے اور اس کا اندر مسخ ہو جائے یعنی کتوں اور سوڑوں اور بندروں کی خاصیت اس کے نفس میں پیدا ہو جائے اور شماخ نے ایک شعر میں لعنتی انسان کا نام بھیڑیا کھا ہے اس مشابہت سے کہ لعنتی کا باطن مسخ ہو جاتا ہے۔تم " کلا ہم۔ایسا ہی عرف عام میں بھی جب یہ بولا جاتا ہے کہ فلاں شخص پر خدا کی لعنت ہے تو هر یک ادنی اعلیٰ یہی سمجھتا ہے کہ وہ شخص خدا کی نظر میں واقعی طور پر پلید باطن اور بے ایمان اور شیطان ہے اور خدا اس سے بیزار اور وہ خدا سے روگردان ہے۔اب اعتراض یہ ہے کہ جس حالت میں لعنت کی حقیقت یہ ہوئی کہ ملعون ہونے کی حالت میں انسان کے تمام تعلقات خدا سے ٹوٹ جاتے ہیں اور اس کا نفس پلید اور اس کا دل سیاہ ہو جاتا ہے یہاں تک کہ وہ خدا سے بھی رو گر دائی اختیار کرتا ہے اور اس میں اور