مسیحی انفاس — Page 156
۱۵۶ ۱۳۳ لعنت نت اس نے اپنے اوپر اٹھالی اور ہمیں اس سے مخلصی دی اور آپ بھی اس لعنت کے نیچے سے تیسرے دن نکل آیا " اب اس جگہ عیسائیوں کے عدل کی حقیقت بھی کھل گئی کہ اوروں کے لئے ابدی لعنت اور بیٹے کے لئے صرف تین دن۔اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ ایک منٹ کی لعنت بھی شیطان سیرت بنا دیتی ہے چنانچہ کتاب جامعۃ الفرائض صفحہ ۹۲ میں لکھا ہے کہ " اس بے ایمانوں کے لشکر کے ساتھ شیطان ہو دیں گے " بہر حال عیسائیوں کا یہی عقیدہ ہے کہ تین دن جو لعنت کے دن تھے یسوع جہنم کا عذاب بھگتتا وو رہا۔اور کتاب راہ زندگی مطبوعہ اللہ آباد ۱۸۵۰ء صفحہ ۶۹ سطر ۸ میں لکھا ہے کہ سزا ( یعنی گناہ گار کی سزا ) اکثر موت کے لفظ سے مذکور ہوتی ہے موت نہ صرف جسم کی بلکہ روح کی بھی نہ صرف دنیاوی بلکہ ابدی اور اسی کتاب راہ زندگی میں جو تالیف ڈاکٹر ہاج ڈی ڈی باشندہ امریکہ ہے لکھا ہے کہ ” لعنت اور موت اور غضب اور وہ سزا جو گنہگاروں کو ملے گی سب ایک چیز ہیں اور پھر پی اس عقیدہ کی تائید میں لکھتا ہے کہ " " مسیح نے کہا ہے کہ گنگا جہنم کی اس آگ میں جو کبھی نہیں مجھے گی ڈالے جائیں گے ؟ (مرقس باب ۹ آیت ۴۱ ) کتاب البری روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۲۸۳ تا ۲۸۸ حاشیه در حاشیه یہ کیسا انصاف ہے کہ اس نے اپنے بیٹے کو سزادینے کے لئے صرف تین دن مقرر کئے۔مگر دوسرے لوگوں کی سزا کا حکم ابدی ٹھرایا جس کا کبھی بھی انتہا نہیں اور چاہا کہ وہ بیٹے کو سزا صرف تین دن اور دوسروں کو ہمیشہ اور ابد تک دوزخ کے تنور میں جلتے رہیں۔کیارحیم کریم خدا کو ایسا کرنا مناسب تھا ؟ ابدی۔بلکہ چاہئے تو یہ تھا کہ اپنے بیٹے کو زیادہ مزا دیتا کیونکہ وہ بوجہ خدائی قوتوں کے زیادہ سزا کا متحمل ہو سکتا تھا۔خدا کا بیٹا جو ہوا۔اس کی طاقت کے ساتھ دوسروں کی طاقت کب برابر ہو سکتی ہے جو غریب اور عاجز مخلوق ہیں۔لیکچر لاھور روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۷۱ چونکہ عیسائیوں کا یہ ایک متفق علیہ عقیدہ ہے کہ یسوع مصلوب ہو کر تین دن کے لئے لعنتی ہو گیا تھا اور تمام مدار نجات کا ان کے نزدیک اسی لعنت پر ہے تو اس لعنت کے خدا کی لعنت اور کسر مفہوم کی رو سے ایک ایسا سخت اعتراض وارد ہوتا ہے جس سے تمام عقیدہ تثلیث اور صليب