مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 140 of 632

مسیحی انفاس — Page 140

نخواہ ان کو پر میشر ثابت کرنا چاہا ہے مگر وہ قصے بھی عیسائیوں کے بیہودہ قصوں سے کچھ کم نہیں ہیں۔اور اگر فرض بھی کریں کہ کچھ ان میں سے صحیح بھی ہے۔تب بھی عاجز انسان جو ضعف اور ناتوانی کا خمیر رکھتا ہے۔پر میشر نہیں ہو سکتا اور احیاء حقیقی تو خود باطل اور الی کتابوں کے مخالف ہاں اعجازی احیاء جس میں دنیا کی طرف رجوع کرنا اور دنیا میں پھر آباد ہونا نہیں ہوتا۔ممکن تو ہے۔مگر خدائی کی دلیل نہیں کیونکہ اس کے مدعی عام ہیں۔مردوں سے باتیں کرا دینے والے بہت گذرے ہیں مگر یہ طریق کشف قبور کے قسم میں سے ہے۔ہاں ہندووں کو عیسائیوں پر ایک فضیلت بیشک ہے۔اس کے بلاشبہ ہم قائل میں اور وہ یہ ہے کہ وہ بندوں کو خدا بنانے میں عیسائیوں کے پیشرو ہیں۔انہیں کے ایجاد کی عیسائیوں نے بھی پیروی کی۔ہم کسی طرح اس بات کو چھپا نہیں سکتے کہ جو کچھ عیسائیوں نے عقلی اعتراضوں سے بچنے کے لئے باتیں بنائی ہیں یہ باتیں انہوں نے اپنے دماغ سے نہیں نکالیں۔بلکہ شاستروں اور گرنتھوں میں سے چرائی ہیں۔یہ تمام تو وہ طوفان پہلے ہی سے برہمنوں نے کرشن اور رام چندر کے لئے بنارکھا تھا جو عیسائیوں کے کام آیا۔پس یہ خیال بدیہی البطلان ہے کہ شاید ہندووں نے عیسائیوں کی کتابوں ہیں سے چرایا ہے۔کیونکہ ان کی تحریریں اس وقت کی ہیں کہ جب حضرت عیسی کا وجود بھی دنیا میں نہیں تھا۔پس ناچار ماننا پڑا کہ چور عیسائی ہی ہیں۔چنانچہ پوسٹ صاحب بھی اس بات کے قائل ہیں کہ تشیث افلاطون کے لئے ایک غلط خیال کی پیروی کا نتیجہ - مگر اصل یہ ہے کہ یونان اور ہند اپنے خیالات میں مرا یا متقابلہ کی طرح تھے۔قریب قیاس یہ ہے کہ یہ شرک کے انبار کے انبار پہلے ہند سے وید ودیا کی صورت میں یونان میں گئے۔پھر وہاں سے نادان عیسائیوں نے چرا چرا کر انجیل پر حاشئے چڑہائے اور اپنا نامہ اعمال درست کیا۔“ نور القرآن۔حصہ اول۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۶۰ تا ۳۶۴- حاشیه ایک اور بات یادرکھنے کے لائق ہے کہ عیسائی لوگ لفظ الو ہیم سے جوالہ کی جمع ہے اور کتاب پیدائش میں موجود ہے یہ نکالنا چاہتے ہیں کہ گویا یہ تثلیث کی طرف اشارہ مگر اس سے اور بھی ان کی نادانی ثابت ہوتی ہے کیونکہ عبرانی لغت سے ثابت ہے کہ ٹوالو ہیم کا لفظ بظاہر جمع ہے مگر ہر ایک جگہ واحد کے معنے دیتا ہے۔بات یہ ہے کہ زبان ۱۴۰ ۱۲۰