مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 141 of 632

مسیحی انفاس — Page 141

۱۴۱ عربی اور عبرانی میں یہ محاورہ شائع ہے کہ بعض وقت لفظ واحد ہوتا ہے اور معنے جمع کے لفظ الوسيم - سے تبث دیتا ہے جیسا کہ سامر اور دجال کا لفظ اور بعض وقت ایک لفظ جمع کے صیغہ پر ہوتا ہے اور ملیت نہیں ہوتی۔معنے واحد کے دیتا ہے۔اور عبرانی جاننے والے خوب جانتے ہیں کہ یہ لفظ الو ہیم بھی ان ہی الفاظ میں سے ہے جو جمع کی صورت میں ہیں اور دراصل واحد کے معنے رکھتے ہیں۔اسی وجہ سے یہ لفظ توریت میں جس جگہ آیا ہے ان ہی معنوں کے لحاظ سے آیا ہے۔اور یہ دعوی بالکل غلط ہے کہ وہ ہمیشہ خدا تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے۔بلکہ بعض جگہ یہی لفظ فرشتہ کے لئے اور بعض جگہ قاضی کے لئے اور بعض جگہ حضرت موسیٰ کے لئے آیا ہے جیسا کہ قاضیوں کی کتاب باب ۲۳ ۱۳ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب منو حاسمون کے باپ نے خداوند کا ایک فرشتہ دیکھا تو اس نے کہا کہ ہم یقینا مر جائیں گے کیونکہ ہم نے الو ہیم کو دیکھا۔اس جگہ عبرانی میں لفظ الوہیم ہے اور معنے اس کے فرشتہ کئے جاتے ہیں اور خروج باب ۱۲۹ میں الوہیم کے معنے قاضی کئے گئے اور خروج باب ۱۰ رے میں موسیٰ کو الوہیم قرار دے کر کہا ہے کہ ”دیکھ میں نے مجھے فرعون کے لئے ایک الوہیم بنایا ہے۔اور استثنا باب ۳۲٫۱۵ میں یہ عبارت ہے۔اور اس نے الوہا کو چھوڑ دیا جس نے اسے پیدا کیا تھا۔“ دیکھو اس جگہ لفظ الوہا ہے الو ہیم نہیں ہے۔اور ایسا ہی زبور ۲۲ / ۵۰ میں لفظ الوہا آیا ہے۔اور اسی طرح ان کتابوں میں لفظ الوہا اور الوہیم ایک دوسرے کی جگہ آیا ہے۔جس سے سمجھا جاتا ہے کہ دونوں جگہ واحد مراد ہے نہ جمع۔ایسا ہی یسعیا باب ۴۴/۶ میں الو ہیم آیا ہے۔اور پھر آیت آٹھ میں الوہا ہے۔پس واضح ہو کہ اصل مدعا جمع کا صیغہ لانے سے خدا کی طاقت اور قدرت کو ظاہر کرتا ہے اور یہ زبانوں کے محاروات ہیں جیسا کہ انگریزی میں ایک انسان کو یو یعنی تم کے ساتھ مخاطب کرتے ہیں۔مگر خدا کے لئے باوجود تثلیث کے عقیدہ کے ہمیشہ داد یعنی تو کا لفظ لاتے ہیں۔ایسا ہی عبرانی میں بجائے ادون کے جو خدا کے معنے رکھتا ہے اردو نیم جاتا ہے سو در اصل یہ بحثیں محاورات لغت کے متعلق ہیں۔قرآن شریف میں اکثر جگہ خدا تعالیٰ کے کلام میں ہم آجاتا ہے کہ ہم نے یہ کیا اور ہم یہ کریں گے۔اور کوئی عظمند نہیں سمجھتا کہ اس جگہ ہم سے مراد کثرت خداوں کی ہے۔مگر پادری صاحبوں کے حال پر بہت افسوس ہے کہ وہ قابل شرم طریقوں پر تاویلیں کر کے ایک انسان کو زبر دستی خدا بنانا چاہتے ہیں مجھے معلوم ہوتا ہے کہ بت پرستی کے زمانہ کے خیلات انہیں مجبور