مسیحی انفاس — Page 139
۱۳۹ نخست زادہ کہلایا ہے۔مگر بد قسمت انسان جب کسی پیچ میں پھنس جاتا ہے تو پھر اس سے نکل نہیں سکتا۔۔۔۔۔پھر عجیب تریہ کہ جو کچھ مسیح کی خدائی کے لئے قواعد بیان کئے گئے ہیں کہ وہ خدا بھی ہے انسان بھی یہ تمام قوائد کرشن اور رام چندر کے لئے ہندووں کی کتابوں میں پہلے سے موجود ہیں۔اور اس نئی تعلیم سے ایسے مطابق پڑے ہیں کہ ہم بجز اس کے اور کوئی بھی رائے ظاہر نہیں کر سکتے کہ یہ تمام ہندووں کے عقیدوں کی نقل کی گئی ہے۔ہندووں میں ترے مورتی کا بھی عقیدہ تھا جس سے برہما۔بشن۔مہادیو کا مجموعہ مراد ہے۔سو تثلیث ایسے عقیدے کا عکس کھینچا ہوا معلوم ہوتا ہے مگر عجیب بات یہ ہے کہ جو کچھ مسیح کے خدا بنانے کے لئے اور عقلی اعتراضوں سے بچنے کے لئے عیسائی لوگ جوڑ توڑ کر رہے ہیں اور مسیح کی انسانیت کو خدائی کے ساتھ ایسے طور سے پیوند دے رہے ہیں۔جس سے ان کی غرض یہ ہے کہ کسی طرح عقلی اعتراضوں سے بچ جائیں اور پھر بھی وہ کسی طرح بچ بھی نہیں سکتے۔اور آخر سر الہی میں داخل کر کے پیچھا چھوڑاتے ہیں۔بعینہ یہی نقشہ ان ہندووں کا ہے جو رام چندر اور کرشن کو ایشر قرار دیتے ہیں۔یعنی وہ بھی بعینہ وہی باتیں سناتے ہیں جو عیسائی سنایا کرتے ہیں۔اور جب ہر یک پہلو سے عاجز آجاتے ہیں۔تب کہتے ہیں کہ یہ ایک ایشر کا بھید ہے اور انہیں پر کھلتا ہے جو جوگ کماتے اور دنیا کوتیا گئے اور تپشیا کرتے ہیں۔لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ یہ بھید تو اسی وقت کھل گیا جب کہ ان جھوٹے خداؤں نے اپنی خدائی کا کوئی ایسا نمونہ نہ دکھلایا جو انسان نے نہ دکھلایا ہو۔سچ ہے کہ گر تھوں میں یہ قصے بھرے پڑے ہیں۔کہ ان کو تاروں نے بڑی بڑی شکتی کے کام کئے ہیں۔مردے جلائے اور پہاڑوں کو سر پر اٹھا لیا۔لیکن اگر ہم ان کہانیوں کو سچ مان لیں تو یہ لوگ خود قائل ہیں کہ بعض ایسے لوگوں کرشمے دکھلائے جنہوں نے خدائی کا دعوی نہیں کیا۔مثلاً ذرا سوچ کر دیکھ لو کہ کیا مسیح کے کام موسیٰ کے کاموں سے بڑھ کر تھے۔بلکہ مسیح کے نشانوں کو تو تالاب کے قصہ نے خاک میں ملادیا۔کیا آپ لوگ مجز نما تالاب سے واقف نہیں جو اسی زمانہ میں تھا اور کیا اسرائیل میں ایسے نبی نہیں گذرے جن کے بدن کے چھونے سے مردے زندہ ہوئے۔پھر خدائی کی شیخی مارنے کے لئے کونسی وجوہات ہیں جائے شرم !!! اور اگر چہ ہندووں نے اپنے او تاروں کی نسبت شکتی کے کام بہت لکھے ہیں۔اور خواہ