مسیحی انفاس — Page 100
آتا ہے اور دن کو روشن کرتا ہے اور اس ماہتاب کے مقابل پر جو ایک خوبصورت روشنی کے ساتھ رات کو طلوع کرتا ہے اور رات کو منور کر دیتا ہے آپ نے ایک آفتاب اور ایک ماہتاب اپنی طرف سے بنا کر ہم کو دکھا دیا ہے اور کتابیں کھول کر اپنی خدائی کا ثبوت ہماری مقبولہ مسلمہ کتابوں سے پیش کر دیا ہے۔اب ہماری کیا مجال ہے کہ بھلا آپ کو خدا نہ کہیں جہاں خدا نے اپنی قدرتوں کے ساتھ بجلی کی وہاں عاجز بندہ کیا کر سکتا ہے۔لیکن حضرت مسیح نے ان دونوں ثبوتوں میں سے کسی ثبوت کو بھی پیش نہ کیا۔اور پیش کیا تو ان عبادتوں کو پیش کیا سن لیجئے۔تب یہودیوں نے پھر پتھر اٹھائے کہ اس پر پتھراؤ کریں۔یسوع نے اسے جواب دیا کہ میں نے اپنے باپ کے بہت سے اچھے کام تمہیں دکھائے ہیں ان میں سے کس کام کے لئے تم مجھے پتھر لو کرتے ہو۔یہودیوں نے اسے جواب دیا کہ ہم مجھے اچھے کام کے لئے نہیں بلکہ اس لئے تجھے پتھراؤ کرتے ہیں کہ تو کفر کہتا ہے اور انسان ہو کے اپنے تئیں خدا بناتا ہے۔یسوع نے انہیں جواب دیا کہ کیا تمہاری شریعت میں یہ نہیں لکھا ہے کہ میں نے کہا تم خدا ہو جبکہ اس نے انہیں جن کے پاس خدا کا کلام آیا خدا کہا اور ممکن نہیں کہ کتاب باطل ہو تم اسے جسے خدا نے مخصوص کیا اور جہان میں بھیجا کہتے ہو کہ تو کفر بکتا ہے کہ میں نے کہا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں۔لب منصفین سوچ لیں کہ کیا الزام کفر کا دور کرنے کے لئے اور اپنے آپ کو حقیقی طور پر بیٹا اللہ تعالیٰ کا ثابت کرنے کے لئے یہی جواب تھا کہ اگر میں نے بیٹا کہلایا تو کیا ہرج ہو گیا تمہارے بزرگ بھی خدا کہلاتے رہے ہیں۔ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب اس جگہ فرماتے ہیں کہ گویا حضرت مسیح ان کے بلوے سے خوفناک ہو کر ڈر گئے اور اصلی جواب کو چھپالیا اور تقیہ اختیر کیا مگر میں کہتا ہوں کہ کیا یہ ان نبیوں کا کام ہے کہ اللہ جل شانہ کی راہ میں ہر وقت جان دینے کو تیار رہتے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے الذين يبلغون رسالات اللهِ وَيَحْشُونَهُ وَلا يخشون أحدًا الا الله يعني الله تعالیٰ کے بچے پیغمبر جو اس کے پیغام پہنچاتے ہیں وہ پیغام رسانی میں کسی سے نہیں ڈرتے۔پس حضرت مسیح قادر مطلق کہلا کر کمزور یہودیوں سے کیوں کر ڈر گئے۔اب اس سے صاف طور پر ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے حقیقی طور پر ابن