مسیحی انفاس — Page 99
44 دعوی این اللہ اور الموبيت یہود کی تھا۔پر وغیرہ کی نسبت بولے گئے ہیں جو ابن اللہ ہیں یا خدا ہیں کوئی امتیاز اور خصوصیت نہیں۔ذرہ سوچ کر دیکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح پر یہودیوں نے یہ بات سن کر کہ وہ اپنے تیں ابن اللہ کہتے ہیں یہ الزام لگایا تھا کہ تو کفر کہتا ہے یعنی کافر ہے اور پھر انہوں نے اس الزام کے لحاظ سے ان کو پتھراؤ کرنا چاہا اور بڑے افروختہ ہوئے۔اب ظاہر ہے کہ ایسے موقعہ پر کہ جب حضرت مسیح یہودیوں کی نظر میں اپنے ابن اللہ کہلانے کی وجہ سے کافر طرف سے تکفیر معلوم ہوتے تھے اور انہوں نے اس کو سنگسار کرنا چاہا۔تو ایسے موقعہ پر کہ اپنی برتیت یا کا جواب کیا ہونا چاہئے اثبات دعوی کا موقعہ تھا نسیح کا فرض کیا تھا؟ ہر ایک عظمند سوچ سکتا ہے کہ اس موقعہ پر کہ کا فر بنایا گیا حملہ کیا گیا سنگسار کرنے کا ارادہ کیا گیا۔دو صورتوں میں سے ایک صورت اختیار کر نا سی کا کام تھا۔اول یہ کہ اگر حقیقت میں حضرت مسیح خدا تعالیٰ کے بیٹے ہی تھے تویوں جواب دیتے کہ یہ میراد عوی حقیقت میں سچا ہے اور میں واقعی طور پر خدا تعالیٰ کا بیٹا ہوں اور اس دعوی کے اثبات کرنے کے لئے میرے پاس دو ثبوت ہیں ایک یہ کہ تمہاری کتابوں میں میری نسبت لکھا ہے کہ مسیح در حقیقت خدا تعالیٰ کا بیٹا ہے بلکہ خود خدا ہے۔قادر مطلق ہے۔عالم الغیب ہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے۔اگر تم کو شبہ ہے تو لاؤ کتابیں پیش کرو میں ان کتابوں سے اپنی خدائی کا ثبوت تمہیں دکھلاوں گا۔یہ تمہاری غلط فہمی اور کم توجہی اپنی کتابوں کی نسبت ہے کہ تم مجھے کافر ٹھہراتے ہو۔تمہاری کتابیں ہی تو مجھے خدا بنا رہی ہیں اور قادر مطلق بتلا رہی ہیں پھر میں کافر کیونکر ہوا بلکہ تمہیں تو چاہئے کہ اب میری پرستش اور پوجا شروع کر دو کہ میں خدا ہوں۔پھر دوسرا ثبوت یہ دینا چاہئے تھا کہ آؤ خدائی کی علامتیں مجھ میں دیکھ لو جیسے خدا تعالیٰ نے آفتاب۔ماہتاب۔سیارے۔زمین وغیرہ پیدا کیا ہے۔ایک قطعہ زمین کا یا کوئی ستارہ یا کوئی اور چیز میں نے بھی پیدا کی ہے اور اب بھی پیدا کر کے دکھلا سکتا ہوں اور نبیوں کے معمولی معجزات سے بڑھ کر مجھ میں قوت اور قدرت حاصل ہے۔اور مناسب تھا کہ اپنے خدائی کے کاموں کی ایک مفصل فہرست ان کو دیتے کہ دیکھو آج تک یہ یہ کام میں نے خدائی کے کئے ہیں۔کیا حضرت موسی سے لے کر تمہارے کسی آخری نبی تک ایسے کام کسی اور نے بھی کئے ہیں۔اگر ایسا ثبوت دیتے تو یہودیوں کا منہ بند ہو جاتا اور اسی وقت تمام فقیہ اور فریبی آپ کے سامنے سجدہ میں گرتے کہ ہاں حضرت ! ضرور آپ خدا ہی ہیں ہم بھولے ہوئے تھے۔آپ نے اس آفتاب کے مقابل پر جو ابتداء سے چمکتا ہوا چلا