مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 101 of 632

مسیحی انفاس — Page 101

1+1 اللہ ہونے کا یا خدا ہونے کا کبھی دعوی نہیں کیا اور اس دعوی میں اپنے تئیں ان تمام لوگوں کا ہمرنگ قرار دیا اور اس بات کا اقرار کیا کہ انہیں کے موافق یہ دعوی بھی ہے تو پھر اس صورت میں وہ پیش گوئیاں جو ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب پیش فرماتے ہیں وہ کیونکر بموجب شرط کے صحیح سمجھی جائیں گی۔ایسا تو نہیں کرنا چاہئے کہ مدعی ست گواہ چست۔حضرت مسیح تو کفر کے الزام سے بچنے کے لئے صرف یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ میری نسبت اسی طرح بیٹا ہونے کا لفظ بولا گیا ہے۔جس طرح تمہارے بزرگوں کی نسبت بولا گیا ہے گویا یہ فرماتے ہیں کہ میں تو اس وقت قصور وار اور مستوجب کفر ہوتا کہ خاص طور پر بیٹا ہونے کا دعوی کرتا۔بیٹا کہلانے اور خدا کہلانے سے تمہاری کتابیں بھری پڑی ہیں دیکھ لو۔جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۳۳ تا ۱۳۶ حضرت مسیح کے بارہ میں جو آپ نے عذر پیش کیا ہے کہ حضرت مسیح نے صرف یہودیوں کا غصہ فرو کرنے کے لئے یہ کہہ دیا تھا کہ تمہاری شریعت میں بھی تمہارے نبیوں کی نسبت لکھا ہے کہ وہ خدا ہیں اور نیز اس جگہ آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ مسیح نے اپنی انسانیت کے لحاظ سے ایسا جواب دیا یہ بیان آپ کا منصفین کی توجہ اور غور کے لائق ہے۔صاف ظاہر ہے کہ یہودیوں نے حضرت مسیح کا کلمہ کہ میں خدا تعالیٰ کا بیٹا ہوں ایک کفر کا کلمہ قرار دے کر اور نعوذ باللہ ان کو کافر سمجھ کر یہ سوال کیا تھا اور اس سوال کے جواب میں بے شک حضرت مسیح کا یہ فرض تھا کہ اگر وہ حقیقت میں انسانیت کی وجہ سے ۸۷ نہیں بلکہ خدائی کی وجہ سے اپنے تئیں خدا کا بیٹا سمجھتے تھے تو اپنے مدعا کا پورا پورا اظہار کرتے یہود کے سوال پر این اللہ ہونے کا ثبوت دینا اور اپنے ابن اللہ ہونے کا ان کو ثبوت دیتے کیونکہ اس وقت وہ ثبوت ہی مانگتے تھے۔لیکن حضرت مسیح نے تو اس طرف رخ نہ کیا اور اپنے دوسرے انبیاء کی طرح قرار دے کر عذر پیش کر دیا اور اس فرض سے سبکدوش نہ ہوئے جو ایک سچا مبلغ اور معلم سبکدوش ہونا چاہتا ہے۔حضرت مسیح نے جو اپنی برتیت کا ثبوت پیش کیا اس کو نکما اور مہمل کرنا آپ کا ارادہ ہے۔کیا حضرت مسیح یہودیوں کی نظر میں صرف اس قدر کہنے سے بری ہو سکتے تھے کہ میں اپنے خدا ہونے کی وجہ سے تو بے شک ابن اللہ ہی ہوں لیکن میں انسانیت کی وجہ سے دوسرے نبیوں کے مساوی چاہئے تھا۔