مسیحی انفاس — Page 96
۹۶ Ar وہ اسی سے قدوس اور ذوالجلال کہلاتا ہے کہ وہ ایسے عیبوں اور نقصانوں سے بھرا ہوا ہے۔براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد ا صفحه ۴۳۸ تا ۴۴۲۔بقیه حاشیه ۱۱ رک لوگ ایسے نادان ہیں کہ جنات کو خدا کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور اس کے لئے بغیر کسی علم اور اطلاع حقیقت حال کے بیٹے اور بیٹیل تراش رکھتی ہیں اور یہود کہتے کہ عزیه خدا کا بیٹا ہے اور نصاری مسیح کو خدا کا بیٹا بناتے ہیں یہ سب ان کے مونہہ کی باتیں ہیں جن کی صداقت پر کوئی حجت قائم نہیں کر سکتے بلکہ صرف پہلے زمانہ کے مشرکوں کی ریس کر رہے ہیں۔ملعونوں نے سچائی کا راستہ کیسا چھوڑ دیا اپنے فقیہوں اور درویشوں اور مریم کے بیٹے کو خدا ٹھہرالیا ہے حالانکہ حکم یہ تھا کہ فقط خدائے واحد کی پرستش کرو خدا اپنی خدا تعالی کی ذات میں ذات میں کامل ہے اس کو کچھ حاجت نہیں کہ بیٹا بنا ہے۔کو نسی کسر اس کی ذات میں رہ و پی کر وہ بھی ھی ہو گئی تھی جو بیٹے کے وجود سے پوری ہو گی اور اگر کوئی کسر نہیں تھی تو پھر کیا بیت بنانے میں خدا بیٹے کے وجود سے پوری ہو گئی۔ایک فضول حرکت کرتا جس کی اس کو کچھ ضرورت نہ تھی وہ تو ہر یک عبث کام اور ہریک حالت ناتمام سے پاک ہے جب کسی بات کو کہتا ہے ہو تو ہو جاتی ہے۔A کے معنے۔براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلدا صفحه ۵۲۴ بقیه حاشیه در حاشیه ۳ پھر صاحب موصوف تحریر فرماتے ہیں کہ توریت میں مسیح کو یک تن اور انبیاء کو یک من کر کے لکھا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام میں کہتا ہوں کہ توریت میں نہ تو کہیں ایک تن کالفظ ہے اور نہ یک من کا۔صاحب کے نزدیک این اللہ موصوف کی بڑی مہربانی ہوگی کہ یہ تشریح توریت کی رو سے ثابت کریں کہ توریت نے جب دوسرے انبیاء کا نام ابناء اللہ رکھا تو اس سے مراد یک من ہونا تھا۔اور جب مسیح علیہ کا نام ابن اللہ رکھا تو اس کا لقب یک تن رکھ دیا۔میری دانست میں تو اور انبیاء حضرت مسیح علیہ السلام سے اس القاب یابی میں بڑھے ہوئے ہیں۔کیونکہ حضرت مسیح خود اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ اور فرماتے ہیں کہ میرے ابن اللہ کہنے میں تم کیوں رنجیدہ ہو گئے یہ کونسی بات تھی زبور میں تو لکھا ہے کہ تم سب اللہ ہو۔السلام حضرت مسیح کے اپنے الفاظ جو یو حناء اباب ۳۵ میں لکھتے ہیں یہ ہیں کہ میں نے کہا تم