مسیحی انفاس — Page 97
لا خدا ہو جبکہ اس نے انہیں جن کے پاس خدا کا کلام آیا خدا کہا اور ممکن نہیں کہ کتاب باطل ہو تم اسے جسے خدا نے مخصوص کیا اور جہان میں بھیجا کہتے ہو کہ تو کفر بکتا ہے کہ میں خدا کا بیٹا ہوں۔اب منصف لوگ اللہ تعالیٰ سے خوف کر کے ان آیات پر غور کریں کہ کیا ایسے موقعہ پر کہ حضرت مسیح کی ابنیت کے لئے سوال کیا گیا تھا حضرت مسیح پر یہ بات فرض نہ تھی کہ اگر وہ حقیقت میں ابن اللہ تھے تو انہیں یہ کہنا چاہئے تھا کہ میں دراصل خدا کا بیٹا ہوں اور تم آدمی ہو۔مگر انہوں نے تو ایسے طور سے الزام دیا جسے انہوں نے مہر لگادی کہ میرے خطاب میں تم اعلیٰ درجہ کے شریک ہو مجھے تو بیٹا کہا گیا اور تمہیں خدا کہا گیا۔جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۰۷ ۱۰۸ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح سے پہلے یہود لوگ بنی اسرائیل سیدھے سادے طور پر خدا تعالیٰ کو مانتے تھے اور اس ماننے میں وہ بڑے مطمئن تھے اور ہر ایک دل بول رہا تھا کہ خدا حق ہے جو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا اور مصنوعات کا صانع حقیقی ہے اور واحد لا شریک ہے اور کسی قسم کا دغدغہ خداشناسی میں کسی کو نہ تھا۔پھر جب حضرت مسیح تشریف لائے تو وہ آنحضرت علیہ السلام کے بیانات سن کر گھبرا گئے کہ یہ شخص کس خدا کو پیش کر رہا ہے۔توریت میں تو ایسے خدا کا کوئی پتہ نہیں لگتا۔تب حضرت مسیح نے کہ خدا تعالیٰ کے بچے نبی اور اس کے پیارے اور برگزیدہ تھے۔اس وہم باطل کو دور کرنے کے لئے کہ یہودیوں نے باعث کو نہ اندیشی اپنی کے اپنے دلوں میں جمالیا تھا وہ اپنے کلمات مبارکہ پیش کئے جو یوحناء اباب ۲۹ ۳۰ آیت میں موجود ہیں چنانچہ وہ عبارت بجسم ذیل میں لکھ دی جاتی ہے چاہئے کہ تمام حاضرین حضرت مسیح کی اس عبارت کو غور سے اور توجہ سے سنیں کہ ہم میں اور حضرات عیسائی صاحبوں میں پوراپورا فیصلہ دیتی ہے اور وہ یہ ہے۔۸۵ مسیح نے عام اصطلاح میرا باپ جس نے انہیں مجھے دیا ہے سب سے بڑا ہے اور کوئی انہیں میرے باپ سود کے مطابق خود کو ابن اللہ قرار دیا۔کے ہاتھ سے چھین نہیں لے سکتا میں اور باپ ایک ہیں۔تب یہودیوں نے پھر پتھر اٹھائے کہ اس پر پتھراؤ کریں یسوع نے انہیں جواب دیا کہ میں نے اپنے باپ کے بہت سے اچھے کام تمہیں دکھائے ہیں ان میں سے کس کام کے لئے تم مجھے پتھراؤ کرتے