مسیحی انفاس — Page 95
۹۵ اوپر وار د کر لیا۔اور بشری آلودگیوں اور نقصانوں میں سے کوئی ایسی آلودگی باقی نہ رہی جس سے وہ بیٹا باپ کا بد نام کنندہ ملوث نہ ہو۔اور پھر اس نے اپنی جہالت اور بے علمی اور بے قدری اور نیز اپنے نیک نہ ہونے کا اپنی کتاب میں آپ ہی اقرار کر لیا۔اور پھر در صورت یہ کہ وہ عاجز بنده که خواه نخواه خدا کا بیٹا قرار دیا گیا۔بعض بزرگ نبیوں سے فضائل علمی اور عملی میں کم بھی تھا۔اور اس کی تعلیم بھی ایک ناقص تعلیم تھی کہ جو موسیٰ کی شریعت کی ایک فرع تھی تو پھر کیونکر جائز ہے کہ خداوند قادر مطلق اور ازلی اور ابدی پر یہ بہتان باندھا جاوے کہ وہ ہمیشہ اپنی ذات میں کامل اور غنی اور قادر مطلق رہ کر آخر کار ایسے ناقص بیٹے کا محتاج ہو گیا۔اور اپنے سارے جلال اور بزرگی کو بہ یکبارگی کھو دیا۔میں ہر گز باور نہیں کرتا کہ کوئی دانا اس ذات کامل کی نسبت کہ جو مستجمع جمیع صفات کا ملہ ہے۔ایسی ایسی ذلتیں جائز رکھے۔اور ظاہر ہے کہ اگر ابن مریم کے واقعات کو فضول اور بیہودہ تعریفوں سے الگ کر لیا جائے تو انجیلوں سے اس کے واقعی حالات کا یہی خلاصہ نکلتا ہے کہ وہ ایک عاجز اور ضعیف اور ناقص بندہ یعنی جیسے کہ بندے ہوا کرتے ہیں اور حضرت موسیٰ کے ماتحت نبیوں میں سے ایک نبی تھا۔اور اس بزرگ اور انستان رسول کا ایک تابع اور پس رو تھا۔اور خود اس بزرگی کو ہر گز نہیں پہنچا تھا۔یعنی اس کی تعلیم ایک اعلی تعلیم کی فرع تھی مستقل تعلیم نہ تھی۔اور وہ خود انجیلوں میں اقرار کرتا ہے کہ میں نہ نیک ہوں نہ عالم الغیب ہوں۔نہ قادر ہوں بلکہ ایک بندہ عاجز ہوں۔اور انجیل کے بیان سے ظاہر ہے کہ اس نے گرفتار ہونے سے پہلے کئی دفعہ رات کے وقت اپنے بچاؤ کے لئے دعا کی۔اور چاہتا تھا کہ دعا اس کی قبول ہو جائے۔مگر اس کی وہ دعا قبول نہ ہوئی۔اور نیز جیسے عاجز بندے آزمائے جاتے ہیں وہ شیطان سے آزمایا گیا۔پس اس سے ظاہر ہے کہ وہ ہر طرح سے عاجز ہی عاجز تھا۔مخرج معلوم کی راہ سے جو پلیدی اور ناپاکی کا مبرز ہے تو لہ پا کر مدت تک بھوک اور پیاس اور درد اور بیماری کا دکھ اٹھاتارہا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ وہ بھوک کے دکھ سے ایک انجیر کے نیچے گیا۔مگر چونکہ انجیر پھلوں سے خالی پڑی ہوئی تھی اس لئے محروم رہا۔اور یہ بھی نہ ہو سکا کہ دوچار انجیرمیں اپنے کھانے کے لئے پیدا کر لیتا۔غرض ایک مدت تک ایسی ایسی آلودگیوں میں رہ کر اور ایسے ایسے دکھ اٹھا کر باقرار عیسائیوں کے مر گیا اور اس جہان سے اٹھایا گیا۔اب ہم پوچھتے ہیں کہ کیا خداوند قادرِ مطلق کی ذات میں ایسی ہی صفات ناقصہ ہونی چاہئے۔کیا