مسیح اور مہدیؑ — Page 71
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 71 تمر صیح ناصری علیہ السلام 6 قبر مسیح ناصری علیہ السلام عَنْ عَائِشَةٌ عَنِ النَّبِيِّ قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ لَعَنَ اللَّهُ 20 الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَاءِ هِمُ مَسَاجِدًا۔( نصر الباری شرح بخاری جلد چہارم صفحه 506 ناشر مکتبہ الشیخ بہادر آباد کراچی ) ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں جس میں آپ کی وفات ہوئی فرمایا کہ خدا کی لعنت ہو ان یہودیوں اور عیسائیوں پر جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔تشریح بخاری اور مسلم نے اس حدیث کی صحت پر اتفاق کرتے ہوئے اسے اپنی کتب میں درج کیا۔سنن نسائی میں بھی یہ روایت ہے۔اس حدیث میں یہود و نصاریٰ کا اپنے نبیوں کی قبروں کی پرستش کا ذکر ہے جو عیسائیوں پر ایک زبر دست حجت ہے کیونکہ وہ بنی اسرائیل کے دوسرے نبیوں کی قبروں کی ہرگز پرستش نہیں کرتے بلکہ تمام انبیاء کو گنہگار خیال کرتے ہیں۔ہاں ملک شام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کی پرستش ہوتی ہے اور مقررہ تاریخوں پر ہزار ہا عیسائی سال بسال اس قبر پر جمع ہوتے ہیں۔سو اس حدیث سے ثابت ہوا کہ درحقیقت وہ قبر عیسی کی ہی قبر ہے جس میں وہ صلیب سے اتارے جانے کے بعد زخمی حالت میں رکھے گئے تھے اور اگر اس قبر کو حضرت عیسی کی قبر سے کچھ تعلق نہیں تو پھر نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول صادق نہیں ٹھہرے گا اور یہ ہرگز ممکن نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسی مصنوعی قبر کو قبر نبی قرار دیں جو محض جعلسازی کے طور پر بنائی گئی ہو۔کیونکہ انبیاء علیہم السلام کی شان سے بعید ہے کہ جھوٹ کو واقعات صحیحہ کے محل پر استعمال کریں۔پس اگر حدیث میں نصاری کی قبر پرستی کے ذکر میں اس قبر کی طرف اشارہ نہیں تو اس قبر کا پتہ بتا دیں جو کسی اور نبی کی کوئی قبر ہے اور اس کی عیسائی پرستش کرتے ہیں اور یا اس بات کو قبول کریں کہ ملک شام میں جو حضرت عیسی" کی قبر ہے جس پر ہر سال بہت سا ہجوم عیسائیوں کا ہوتا ہے اور سجدے کئے جاتے ہیں وہ درحقیقت وہی