مسیح اور مہدیؑ — Page 70
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 70 عکس حوالہ نمبر : 19 رسول اللہ کے اہل زمانہ کی سو سالہ قیامت مقاله حقی (جلده نجم ) ۹۵ كتاب الفتن انگلی سے تشبیہ دینے کے سلسلہ میں فرماتے ہیں کہ میں قیامت سے اس قدر آگے ہوں جتنی یہ درمیانی انگلی شہادت کی انگلی سے آگے بڑھی ہوئی ہے۔فلا ادرى : شعبہ کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ آیا یہ قتادہ نے انس سے یہ بات بیان کی یا انس بھی لال نے آپ کی اور اس سے یہ بات نقل کی اور ان سے قتادہ نے آپ کی یوم کا بیان نقل کیا۔مستور دین شد رحمہ اللہ کی روایت میں تصریح ہے کہ یہ حضرت انس ے جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشادی نقل کیا ہے اور راوی نے جب خود وضاحت کر دی ت کسی اور توضیح کی ضرورت نہیں۔اس وقت کے تمام زندہ سو سال تک وفات پائیں گے ۲/۵۳۷۰ وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَبْلَ أَنْ تَمُوتَ شَهْرًا تَسألونى منِ السَّاعَةِ وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللهِ وَأَقْسِمُ بِاللهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةٌ میاد و سلام 266 حة برميل۔(رواه مسلم) رجه مسلم في صحيحه ١٩٦٦/٤ حديث رقم (٢٥٣٨٢١٨) واحمد في المسند ٣٢٢/٣- ترجمہ : حضرت جابر مینہ سے مروی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ یا کو اپنی وفات سے ایک ماہ قبل یہ فرماتے سنائم مجھ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہو۔اس کا علم اللہ تعالی کے پاس ہے اور میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا تا ہوں کہ زمین پر کوئی ایسا انسان نہیں کہ جس پر سو سال گزرے اور وہ اس دن زندہ ہو۔( مسلم ) تشريح و تسألُونِی عَنِ السَّاعَةِ : تم مجھ سے قیامت کبری کے قیام کا حقیقی دقت دریافت کرتے ہو اور وہ تو خود مجھے بھی معلوم نہیں ہوتواللہ تعالی کے سواکوئی نہیں جانتا البتہ قیامت صغری اور وسطی کا علم رکھتا ہوں وہ تمہیں بتائے دیتا ہوں۔ما عَلَى الْأَرْضِ : انسانوں کا وہ طبقہ جو میرے اس خبر دینے کے وقت موجود ہے۔وہ سو برس کی مدت میں تمام کے تمام مر جائیں گے اور ان میں سے کوئی باقی نہ رہے گا۔یہ قیامت وستفی ہے اور ہر ایک کے مرنے کو قیامت صغری کہا جاتا ہے۔اس سے مراد صحابہ کرام کا وفات پاتا ہے اور آپ کر نے غالب کے لحاظ سے یہ بات فرمائی ورنہ بعض صحابہ کرام سو سال سے زیادہ عرصہ زندہ رہے مثلاً حضرت انس ، سلمان وغیرہ رضی اللہ عھما۔زیادہ اولی توجیہ زیادہ ظاہر یہ ہےکہ اپنی وفات سے ای او بل یہ بات فرمائی اس وقت سے ۱۰۰ سال مراد ہیں۔پیس غالب کی قید لگانے کی ضرورت نہیں اور انگلی روایت اس توجیہ کی مرید ہے۔بعض علماء نے کہا جو اس سے پہلے پیدا ہوئے وہ آئندہ سوبرس سے پہلے چل بسے۔بعض کا ہر نے اس روایت سے حضرت خضر علیہ کی موت پر استدلال کیا ہے کیونکہ شہر دینے کے وقت وہ زندوں میں تھے اور آپ کے اس ارشاد کے مطابق سو برس کے بعد تک ان کو زندہ نہ رہنا چاہئے۔دوسر نے علماء نے یہ جواب دیا کہ وہ اس عموم سے سنتی ہیں کیونکہ یہ بات آپ نے اپنی امت کے متعلق فرمائی کسی دوسری است یا پیغمبر کے بارے میں نہیں فرمائی گئی۔بعض نے یہ جواب دیا کہ ارض کی قید نے حضرت خضر والیاس علیہ السلام کو خارج کر دیا۔وہ اس وقت دریا پر تھے زمین پر نہ تھے مگر یہ توجیہ وزن نہیں رکھتی فتند بر ) بغوی نے معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ چار انبیاء سے ہم زندہ ہیں دو زمین پر اور دو آسمان پر حضرت خضر و الیاس علیہما السلام