مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 72 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 72

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 72 قمر مسیح ناصری علیہ السلام قبر ہے جس میں حضرت مسیح مجروح ہونے کی حالت میں داخل کئے گئے تھے۔پس اگر یہ وہی قبر ہے تو خود سوچ لیں کہ اس کے مقابل پر وہ عقیدہ کہ حضرت مسیح صلیب پر نہیں چڑھائے گئے بلکہ چھت کی راہ سے آسمان پر پہنچائے گئے کس قد رلغوا اور خلاف واقعہ ٹھہرے گا۔خود حضرت عیسی نے آپ بھی فرما دیا کہ میں قبر میں ایسا ہی داخل ہوں گا جیسا کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں داخل ہوا تھا۔نبی کی مثال غیر مطابق نہیں ہو سکتی سو وہ بلا شبہ قبر میں زندہ ہی داخل کئے گئے اور یہ مکر اللہ ( یعنی اللہ کی تدبیر) تھی تا یہود ان کو مردہ سمجھ لیں اور اس طرح وہ اس کے ہاتھ سے نجات پاویں۔شخص از ست بچن مطبوعہ 1895 ء روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 309-310 ایڈیشن 2008) خَيْرُ الْمَاكِرِينَ خدا کی یہ تدبیر کارگر ہوئی اور حضرت عیسی علیہ السلام نے صلیب سے نجات کے بعد ایک قبر ما زیرزمین کمرے میں علاج معالجہ کے بعد کشمیر کی طرف ہجرت فرمائی اور یوز آصف نبی کے نام سے وہاں مشہور ہوئے۔120 سال کی عمر میں وفات پا کر سری نگر محلہ خانیار میں دفن ہوئے۔جہاں مقبرہ بلی کے نام سے آپ کا مسقف مزار موجود ہے۔یہی وہ آخری مستند تحقیق ہے جو حضرت بانی جماعت احمدیہ نے حضرت عیسی کی وفات کے بارہ میں پیش فرمائی۔ملخص از مسیح هندوستان میں روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 14 مطبوعہ 20 نومبر 1908ء۔راز حقیقت روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 171 مطبوعہ 30 نومبر 1898ء ایڈیشن 2008) اس کے بعد 1908ء میں حضرت بانی جماعت احمدیہ نے اپنی تصنیف چشمہ معرفت میں تاریخ طبری کا قبر مسیح کے متعلق یہ حوالہ بھی پیش فرمایا ہے کہ : ایک عورت پر یہ نذر تھی کہ وہ ”جمع“ پہاڑ کو سر کرے گی۔۔۔راوی کہتے ہیں کہ میں اس عورت کے ساتھ پہاڑ پر چڑھا جب ہم اس کی آخری چوٹی پر پہنچے تو وہاں ایک قبر ہمیں نظر آئی جس پر دو بڑے بڑے پتھر پڑے ہوئے تھے۔ایک پتھر سر ہانے کی طرف جب کہ دوسرا پاؤں کی طرف پڑا ہوا تھا۔۔۔اس میں لکھا ہوا تھا کہ یہ قبر رسول اللہ حضرت عیسی علیہ السلام ابن مریم علیہ السلام ہے جو یہاں کے رہنے والوں کے لئے آیا تھا۔اس زمانہ کے لوگوں کے پاس وہ نبی بن کر آیا اور جب وہ فوت ہو گئے تو پہاڑ کی چوٹی پر ان کو دفن کیا