مسیح اور مہدیؑ — Page 668
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 668 نبی کی اجتہادی رائے میں غلط فہمی کا امکان 39۔نبی کی اجتہادی رائے میں غلط فہمی کا امکان عَنْ أَبِى مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَرْضِ بِهَا 233 نَخْلٌ فَذَهَبَ وَ هَلِى إِلَى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوِ الْهَجَرُ فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ ( صحیح بخاری اردو جلد دوم صفحہ 586 پروگریسو بکس لاہور) يَثْرِبُ۔ترجمہ: حضرت ابو موسی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایک ایسی سرزمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جس میں کھجور کے باغات ہیں۔میرا خیال اس طرف گیا کہ وہ یمامہ یا ہجر ( کا علاقہ ہے ) مگر دیکھو وہ مدینہ یثرب نکلا۔تشریح بخاری اور مسلم اس حدیث کی صحت پر متفق ہیں۔نسائی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔انبیاء کے رویا اور کشوف وحی کا درجہ رکھتے ہیں لیکن کئی الہی حکمتوں کے پیش نظر بعض دفعہ ان کی تعبیر خود صاحب رؤیا و کشف پر بھی پوری طرح واضح نہیں ہوتی یہاں تک کہ اپنے وقت پر وہ رویا پوری ہوکر خود اپنے معنی کھول دے۔چنانچہ صلح حدیبیہ کے موقع پر یہی ہوا جیسا کہ قرآن شریف میں ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو (اس کی) رویا حق کے ساتھ پوری کر دکھائی کہ اگر اللہ چاہے گا تو تم ضرور بالضرور مسجد حرام میں امن کی حالت میں داخل ہو گے۔اپنے سروں کو منڈواتے ہوئے اور بال کترواتے ہوئے۔ایسی حالت میں کہ تم خوف نہیں کرو گے۔(الفتح: 28) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رویا میں دیکھا تھا کہ آپ اپنے صحابہ کے ساتھ امن سے طواف کعبہ کر رہے ہیں۔اس خواب کو ظاہری طور پر پورا کرنے کی خاطر آپ اسی سال عمرے کا قصد فرما کر مکہ معظمہ تشریف لے گئے ، حدیبیہ کے مقام پر کفار مکہ نے روک لیا اور صلح حدیبیہ کے مطابق آپ اس سال عمرہ نہ فرما سکے۔کفار سے آئندہ سال عمرہ کرنے پر مصالحت ہوئی۔اس موقع پر حضرت عمرؓ جیسے جلیل القدر صحابی کو بھی یہ ابتلاء پیش آ گیا اور انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اللہ کا وعدہ سچا نہیں پھر کیوں ہم یہ ذلت قبول کر رہے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا