مسیح اور مہدیؑ — Page 669
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 669 وعدہ یقینا سچا ہے مگر یہ وعدہ تو نہیں تھا کہ اسی سال عمرہ کریں گے۔نبی کی اجتہادی رائے میں غلط فہمی کا امکان 234 ( صحیح بخاری اردو جلد دوم صفحہ 106 - 108 پروگریسو بکس لاہور ) اس قسم کا دوسرا واقعہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے علم پاکر ازواج مطہرات کو اپنی آخری بیماری میں خبر دی کہ جس بیوی کے ہاتھ زیادہ لمبے ہیں وہ (میری وفات کے بعد ) سب سے پہلے مجھے آملے گی۔اُمہات المؤمنین نے اس کے ظاہری معنی خیال کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اپنے ہاتھ ماپنے شروع کر دیئے اور وہ سمجھیں کہ حضرت سودہ جن کے سب سے لمبے ہاتھ تھے ، وہی سب سے پہلے وفات پا کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جاملیں گی۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی تردید نہ فرمائی اور نہ ہی ازواج کو ہاتھ ماپنے سے روکا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں بعد میں حضرت زینب اُم المساکین سب سے پہلے فوت ہوئیں تو ہمیں پتہ چلا کہ لمبے ہاتھوں کی تعبیر صدقہ سے تھی کہ حضرت زینب اُم المساکین صدقہ ( صحیح بخاری اردو جلد اول صفحہ 733 پروگریسو بکس لاہور ) بہت کیا کرتی تھیں۔مذکورہ بالا حدیث میں بھی یہی مضمون بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رویا میں اپنا دار الحجرت دیکھا تو اسے یمامہ یا حجر سمجھے مگر بعد میں ظاہر ہوا کہ وہ مدینہ ہے۔پس کسی رؤیا کی تعبیر بعض دفعہ خود انبیاء پر ظاہر نہ ہونا کوئی قابل اعتراض بات نہیں بلکہ مخفی الہی حکمتوں کے مطابق یہ بھی خدا کا ایک انعام اور احسان ہی ہوتا ہے کہ وہ صرف ایک حد تک پردہ غیب اٹھاتا ہے باقی حالات آنے والے وقت میں خود ظاہر ہو جاتے ہیں۔حضرت بانی جماعت احمد یہ فرماتے ہیں:۔1 پیغمبر بھی بشر ہی ہوتا ہے اور اس کے لئے یہ نقص کی بات نہیں کہ کسی اپنے اجتہاد میں غلطی کھا وے ہاں وہ غلطی پر قائم نہیں رکھا جاسکتا۔“ 235 ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 250 ایڈیشن 2008) 2۔اجتہادی غلطی سب نبیوں سے ہوا کرتی ہے اور اس میں سب ہمارے شریک ہیں اور یہ ضرور ہے کہ ایسا ہوتا تا کہ بشر خدا نہ ہو جائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے یہ سمجھا تھا کہ ہجرت یمامہ کی طرف ہوگی مگر ہجرت مدینہ طیبہ کی طرف ہوئی اور انگوروں کے متعلق آپ نے یہ سمجھا تھا کہ ابو جہل کے واسطے ہیں بعد میں معلوم ہوا کہ مکرمہ کے واسطے ہیں۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 224 ایڈیشن 1984)