مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 667 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 667

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں سنن الدارمي 667 عکس حوالہ نمبر: 232 غلامان مسیح محمدی کا مقام 479 كتاب الرقاق مي عَنِ ابْنِ مُحَيُرِيزٍ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي جُمُعَةَ ابن محمیر یہ کہتے ہیں میں نے ابو جمعہ سے کہا جو صحابی ہیں کہ رَجُلٍ مِنَ الصَّحَابَةِ حَدِلْنَا حَدِيثًا ہم سے کوئی حدیث بیان کریں جو آپ نے رسول سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُول الله ﷺ قَالَ نَعَمُ اللہ نے علم سے سنی ہو انہوں نے کہا: ”ہاں میں تم سے أحَدِلُكَ حَدِيثًا جَيّدًا تَغَدَيْنَا بہت عمدہ حدیث بیان کروں گا۔ہم صبح کے وقت رسول رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَمَعَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ اللہ سلم کے پاس گئے اور ہمارے ساتھ ابوعبیدہ بن لُجَرَّاح فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ أَحَدٌ۔جراح بنی نہ تھے۔انہوں نے کہا: "یا رسول اللہ ! کوئی ہم مِنَّا أَسْلَمْنَا وَجَاهَدُنَا مَعَكَ قَالَ نَعَمُ سے بھی بہتر ہے؟ ہم ایمان لائے اور آپ کے ساتھ جہاد قَوْم يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِكُمُ يُؤْمِنُونَ ہی کیا آپ نے فرمایا: ”ہاں وہ لوگ جو تمہارے بعد ہوں وَلَمْ يَرَوْنِي۔گے اور مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لائیں گے۔“ :فوائد (1) (( قُلْتُ لَابِى جُمُعَةَ رَجُلٍ مِنَ الصَّحَابَةَ۔)) ان الفاظ سے معلوم ہوتا (۱) ہے کہ ابو جمع صحابی رسول تھے کسی ذات کے بارے اتنا ہی معلوم ہو جانا اس کی تعدیل ، نقاہت کے لیے کافی ہے کیونکہ محدثین ، اصولیین کا قاعدہ ہے ((الصَّحَابَةُ كُلُّهُمْ عَدُولُ۔)) صحابہ سارے کے سارے عادل ہیں۔(۲) صحابہ کی سوچ کا محور عموماً دینی اعتبار سے بہتر یا افضل ہونا ہوتا تھا۔(۳) صحابہ دی کنیم اسلام کے بعد جہاد کو انتہائی عظیم عمل سمجھتے تھے۔(۴) جو شخص آپ ملنے کی ہم پر ہن دیکھے ایمان لائے وہ صحابہ سے بہتر ہے لیکن یہ بہتری مطلق نہیں ہوگی کیونکہ (لَيْسَ الْخَيْرُ كَالْمُعَايَنَة۔(( کہ منی سنائی بات آنکھوں دیکھی کی طرح نہیں ہو سکتی کیونکہ سننے سے بات اس طرح دل میں نہیں جمتی جس طرح دیکھنے یا مشاہدہ کرنے سے اس کا اثر دل پر ہوتا ہے ، اب جب انہوں نے اللہ کے نبی کو دیکھا ہے، آپ کی زندگی کا اٹھنے بیٹھنے کا مشاہدہ کیا ہے، آپ پر وحی اور فرشتوں کے نزول اور دیگر نشانیوں کو دیکھا ان کے لیے ایمان لانا آسان ہے ، بنسبت ان لوگوں کے جو ان چیزوں کا مشاہدہ نہ کر سکے۔انہوں نے غیب پر ایمان لاکر زیادہ جرات کا مظاہرہ کیا ہے۔اس سے ہٹ کر صحابہ کو دوسروں کی نسبت ہر اعتبار سے برتری حاصل ہے۔آپ نے علم کا فرمان ہے: ((Y تَسُبُوا أَصْحَابِي فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلُ أحَدُ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَه۔)) ”میرے صحابہ کو گالی نہ دو، سو اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کرے تو وہ ان کے ایک مد غلہ یا اس کے نصف کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔" (متفق علیہ ) صحيح أخرجه الطبراني في الكبير 22/4(3538) واحمد 160/4