مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 434 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 434

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 434 امام مہدی پر ایمان واجب -24۔امام مہدی پر ایمان واجب عَنْ هِلَالِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ : يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ وَرَاءِ النَّهْرِ يُقَالُ لَهُ الْحَارِثُ حَرَّاثُ عَلَى مُقَدَّمَتِهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مَنْصُورٌ يُوَفِّى ، أَوْ يُمَكِّنُ لِآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا مَكَّنَتْ قُرَيْشُ لِرَسُولِ اللَّهِ وَجَبَ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ نَصْرُهُ أَوْ قَالَ إِجَابَتُهُ۔150 ( سنن ابوداؤ دار دو جلد چہارم صفحه 290 مترجم ابو عمار عمر اعتقاد پبلشنگ ہاؤس نئی دہلی ) ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ماوراء النہر سے ایک شخص ظاہر ہو گا جو حارث حراث کے نام سے پکارا جائے گا اس کے مقدمتہ الجیش کے سردار کو "منصور" کہا جائے گا۔وہ آل محمد کے لئے مضبوطی کا ذریعہ ہو گا۔جس طرح قریش ( میں سے اسلام قبول کرنے والوں) کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی حاصل ہوئی ہر مؤمن پر اس کی مدد و نصرت واجب ہے یا آپ نے فرمایا کہ اسے قبول کرنا لازم ہوگا۔تشریح یہ حدیث علامہ بغوی نے مصابیح السنہ میں عمدہ سند کے ساتھ بیان کی۔نیز نسائی اور بیہقی نے بھی روایت کی ہے۔شیعہ مکتب فکر نے بھی یہ حدیث قبول کی ہے۔( عقد الدرر فی اخبار المنتظر صفحہ 174 حکمران المقدس ایران ) ،، اس حدیث میں ماوراء النہر ( یعنی دریائے جیحون کے ورے سمرقند و بخارا ) فارس کے علاقہ سے ایک ایسے شخص کے ظہور کا ذکر ہے جس کا لقب حارث حراث احارث بن حراث ہوگا۔حارث کے لغوی معنی کا شتکار کے ہیں۔جس میں اس شخص کے ذاتی اور آبائی پیشہ کا شتکاری کی طرف اشارہ ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ معز ز زمیندار خاندان سے ہوگا۔اس معزز فارسی الاصل زمیندار کا آل محمد سے کیا تعلق ہے۔اس بارہ میں اسی حدیث میں ایک اشارہ یہ پایا جاتا ہے کہ اس شخص کی سرزمین ما وراء النہر یعنی سمرقند و بخارا کے علاقے بتائے گئے ہیں جو در حقیقت فارس کے علاقے تھے۔دوسری طرف بخاری کی حدیث میں شریا ستارے سے ایمان لا کر قائم